پرائیویٹ سکولز بھی ایک کاروبار ہے

مکرمی! صوبہ پنجاب کے جتنے پرائیویٹ سکولز برائے حصول تعلیم کھولے گئے ہیں صرف اور صرف ایک کاروباری نظریہ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ میٹرک پاس اساتذہ زنانہ/ مردانہ کم تنخواہوں پر بھرتی کر کے جیبوں کو بھرا جا رہا ہے۔ نہ تو کسی بھی سکول کا کھیل کا میدان اور نہ ہی کوئی فرسٹ ایڈ کے لئے فری ڈسپنسری موجود ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب نہ تو کوئی اساتذہ کو تنخواہ اور نہ ہی کوئی خرچہ طالبات اور طلبہ سے یکمشت 1500 فی ماہ کے حساب سے (4500) مانگے جاتے ہیں جو سراسر زیادتی اور ظلم کے مترادف عمل ہے۔ فیسوں کی وصولی بند کی جائے۔ پرائیویٹ ادراروں میں تعلیم نہیں کاروبار کی حیثیت ہے۔ تدارک فرمایاجائے۔ (حاجی سرور بٹ صدر SWSپسرور)