سنہرے الفاظ جو صرف ادا کئے جاتے ہیں

مکرمی! یہ وہ قیمتی الفاظ ہیں جو ہمارے ملک کے سربراہ اپنا عہدہ سنبھالتے وقت عہد کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں یعنی جیسے ہمارے نو منتخب وزیراعظم نے ادا کئے کہ میں محمد نواز شریف صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور توحید کتب الٰہیہ جن میں قرآن پاک آخری کتاب ہے۔ نبیوں جن میں حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں، روز قیامت اور قرآن و سنت کے تمام تقاضوں اور تعلیم پر ایمان رکھتا ہوں یہ کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا۔ یہ کہ میں بحیثیت وزیراعظم پاکستان اپنے فرائض منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری، سالمیت، استحکام بہبود اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا، یہ کہ میں اسلامی نظریے کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے یہ کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دونگا۔ یہ کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا اور یہ کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کروں گا۔ کاش ان الفاظ کو فریم کرا کر اپنے کمرے میں اپنی نظروں کے سامنے رکھا جائے اور اس کو عموماً ہر ماہ دہرایا جائے تو اس سے دل میں خلوص بھی پیدا ہو گا اور ان الفاظ کے مطابق عمل کرنے کا بھی حوصلہ پیدا ہو گا۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔(زاہد رضا خاں لاہور)اگرلوگ ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں
مکرمی ! ذرا سوچیں جس ملک کے چپڑاسی اور وزیراعظم کرپشن میں مصروف ہوں وہاں ہر شخص کو اپنی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی ورنہ پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر ہر شخص ٹیکس ایمانداری سے دے تو پھر حکومت اسے ایمانداری سے استعمال بھی کرے۔ (سید محمد زاہد شاہ ۔ شیخوپورہ)