’’پرائیویٹ سکول مالکان کی ستم ظریفی‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’پرائیویٹ سکول مالکان کی ستم ظریفی‘‘

مکرمی!تعلیم اب مشن نہیں بلکہ کاروبار بن چکا ہے ۔ کوئی فنکشن ہو، تقسیم انعامات کی تقریب ہوں یا بچوں کو سیر و تفریح کیلئے لے جانا ہو یا امتحانات ہوں، ان سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے۔ ان مواقع پر خرچہ کے علاوہ اپنے منافع کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے۔ ہر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کی فیس کا اپنا ریٹ ہوتا ہے جس کیلئے ارباب اختیار کی طرف سے کوئی معیار مقرر نہیں پھر یہ مالکان ٹیکس بھی نہیں ادا کرتے۔اساتذہ کی بھرتی میں بھی یہ لوگ معیار کا کوئی خیال نہیں رکھتے کہ کسی ٹیچر کی کیا تعلیم ہے اسے متعلقہ شعبہ میں کتنا تجربہ ہے بلکہ جو ٹیچر کم تنخواہ پر راضی ہو جائے اسے بھرتی کر لیا جاتا ہے ستم ظریفی یہ کہ اساتذہ کی تنخواہ بھی اور اساتذہ کو چھٹیوں کی تنخواہ بھی نہیں دی جاتی ۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن لازمی ہے اور اس کے بھی کچھ قواعد و ضوابط مقرر ہیں لیکن محکمہ تعلیم کے اہلکار اور افسر رشوت لے کر رجسٹر کر لیتے ہیں نہ عمارت، نہ بنیادی سہولیات، نہ پلے گرائونڈ اور لیبارٹری وغیرہ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے گلی محلوں میں چلنے والے سکول تین یا پانچ مرلوں پر مشتمل ہیں جن کے پاس نہ لیبارٹری، نہ پلے گرائونڈ، نہ کلاسوں کیلئے پورے کمرے ہوتے ہیں۔ حکومت وقت اس معاملے پر خصوصی توجہ دے۔ یہ لوگ تعلیم کے نام پر بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ (رانا محمد افضل، شعبہ ابلاغیات، گورنمنٹ کالج، ٹائون شپ)