اسلام میں اقلیتوں کا تحفظ

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
اسلام میں اقلیتوں کا تحفظ

مکرمی : 9مارچ کو لاہور میں واقع جوزف کالونی پر اس وقت قیا مت صغرٰی ٹوٹ پڑی جب نامعلوم افراد کی جانب سے وہاں پر مسیحی برادری کی بستی پر دھاوا بول دیا اور بستی کے تمام گھروں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا ۔حسب معمول حکومتی امدادی ادارے دیر سے پہنچے اور ان کے پہنچنے سے قبل پوری قبل بستی راکھ بن چکی تھی او ر بستی کے لوگ بے بسی کے آنسو بہا رہے تھے۔ گذشتہ ماہ لاہور جانے کااتفاق ہوا تو تو اس بستی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔۔ ہمارے روایات اور دین اسلام میں ہمارے رب نے اقلیتوں کے لیے ان کے حقوق مختص کیے اور ہر کلمہ گو پر ان کے حقوق کو لازم قرار دے دیا گیا۔ حضور پاکﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ـ" خبردار ! جس کسی معاہد (اقلیتی فرد) پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی اجازت کے بغیر اس سے کوئی چیز کی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے (مسلمان کے خلاف ) جھکڑوں گا۔ ( ابودائود، السنن ، کتاب اظراج، باب جی تفسیر ،17.3، رقم 3052)یہ صرف ایک تنبیہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون ہے جو حضور ﷺ کے دور مبارک میں جاری ہوا تھا۔ جس پر بعد میں خلفائے راشدین کے دور میں بھی عمل ہوا اور اب بھی یہ اسلامی پاکستان کے دستور ملک کا ایک حصہ ہے اس واقعہ کے فوراً بعد بحریہ ٹائون کے سربراہ رملک ریاض نے حکومت وقت سے ان متاثرین کیلئے نئے گھر بنانے کی پیشکش کی مگر… حکومت وقت نے فی خاندان کیلئے5 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔جو حاضر وقت میں ان پانچ لاکھ میں ایک کمرہ بنانابھی محال ہے۔اگر حکومتی امداد کے ساتھ ساتھ ملک ریاض کی پیشکش کا بھی فائدہ اٹھایا جاتا تو ان بستی والوں کے مسائل میں خاطر خواہ کمی ہوتی مگر حکومت وقت نے ایسا نہیں کیا۔میرا وزیر اعظم پاکستان، حکومت پنجاب ، تمام سیاسی جماعتوں بشمول عمران خان ، بلاول بھٹو زرداری، ملک ریاض صاحب اور بالخصوص علماء کرام سے خصوصی درخواست ہے کہ اس بستی کے مسال حل کرنے میںخصوصی کردار ادا کریں کیونکہ واہاں کے لوگ ابھ تک درے اور سہمے ہوئے ہیں۔(لطیف اللہ نمل یونیورسٹی اسلام آباد )