”حقیقت“

مکرمی! علامہ یوسف القرضاوی کہتے ہیں کہ ایک ایسی قوم کا اپنے دشمنوں پر غلبہ پانا امر محال ہے جس کی دلچسپیوں کا بڑا حصہ کھیل اور تماشوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جس کے اخبارات کا ایک بڑا حصہ اور جس کے ریڈیو اور ٹیلیویژن کا طویل اور اہم ترین وقت ناچ گانے اور بے ہودہ اور بے مقصد ڈراموں کیلئے مختص ہو‘ جس قوم کا سماجی اور اجتماعی مزاج اتنا فاسد ہو گیا ہو کہ اس کے درمیان علماءاور مفکرین قیادت اور رہنمائی کی صلاحیت رکھنے کی بجائے فلمی اداکارا¶ں کی عزت و توقیر سے نوازا جا رہا ہو۔ تو بھلا ایسی قوم اپنے دشمن کو کیسے زیر کر سکتی ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جو علامہ صاحب نے ہم پر بہت پہلے واضح کر دی تھی۔ اب یہی حقیقت ہمارے منہ پر طمانچہ بن کر لگی ہے۔ جب امریکن آرمی نے ہمیں شب خون مارا اور بعد میں اپنے مفتوحہ ملک پہنچ کر اطلاع دی۔ یہی وہ بھیانک حقیقت ہے جو سیالکوٹ میں انڈین بارڈر پر اشتعال انگیز فائرنگ بن کر سامنے آئی اور ایک بے گناہ شہری کی جان لے لی اور سولہ سترہ افراد کو زخمی کر گئی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو روشن دن میں نمودار ہوتی ہے اور آئے دن وزیرستان اور وانا میں ڈرون حملوں کی صورت بن کر اترتی ہے تو معصوم قرآن پڑھنے والے کمسن بچوں کو موت کے گھات اتار کر چلی جاتی ہے۔ یہی وہ بھیانک سچ ہے جو چارسدہ میں ایف سی کے ٹریننگ سنٹر میں 80 سے زائد نوجوانوں کو شہید کر جاتی ہے۔
(مدیحہ نواز - جڑانوالہ)