اپیل

مکرمی! اکثر دیکھا گیا ہے کہ ادھر ایک فنکار نے کسی مصیبت زدہ بہن بھائی کی امداد یا کسی فلاحی تنظیم کی فنڈ ریزنگ کی اپیل کی اور ادھر کروڑوں روپے کی شکل میں عطیہ جات جمع ہو گئے اور ایک انتہائی گھمبیر مسئلہ چند گھنٹوں میں حل ہو گیا۔ فنکاروں کی اس بے لوث خدمت کی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں، چند ماہ قبل کی ایک مثال کا راقم عینی شاہد ہے کہ گردوں کے مریضوں کے لیے انتہائی خلوص اور جدید ترین لیبارٹریوں کے ساتھ لاہور میں سماجی خدمت سر انجام دینے والی ایک تنظیم ”رحمن فاﺅنڈیشن“ کی فنڈ ریزنگ کے لیے ایک کامیڈین محمود خان موٹا نے ایک ٹی وی چینل پر ایک پروگرام کیا اور اہل خیر سے فنڈز کی اپیل کی تو ان کی اپیل پر بے شمار مخیر بہن بھائیوں نے دل کھول کر عطیات بھی دیئے اور ان عطیات سے ایک عرصہ تک غریب مریضوں کے مفت ڈائیلسز بھی ہوتے رہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے سٹیج پر قہقہے بکھیرنے والا یہی کامیڈی اداکار محمود خان اپنے سٹائل کا مکمل فنکار ہے۔ یہ فنکار آج سراپا غم بنا ہے تو کوئی اس کا ہمدرد نہیں، کوئی اس کا غم خوار نہیں اب وہ ہنسنے ہنسانے کی بجائے مسلسل روتا رہتا ہے۔ بیماری، بھوک اور محرومی نے اسے مایوس کر دیا ہے۔ تیس سال تک سٹیج ڈراموں میں کام کرنے والا کامیڈین محمود خان حسن چوک پانی والی ٹینکی آمنہ پارک منصورہ لاہور میں چھ ہزار روپے ماہانہ کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بڑا بیٹا عثمان محمود شادی شدہ ہے۔ بیٹی کے معاملہ میں بھی غربت اور بیماری نے محمود خان کو یہ صدمہ دیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے کم سے کم تر وسائل سے بھی محروم ہے جبکہ بیٹی کی شادی کرنا اس کا فرض بھی ہے۔ محمود خان کے علاوہ اس کے اہل خانہ کے اخراجات، مکان کا کرایہ، بیٹی کی رخصتی کے اخراجات اور مہنگائی کے موجودہ دور میں زندہ رہنے کے لئے وہ اور اس کا خاندان کیا کرے گا؟ حکومت اہلکاران، مخیر حضرات اور فن کی قدر کرنے والے طبقے اس سوال پر خصوصی توجہ دیں۔ مخیر حضرات ان کے موبائل نمبر0331-4140712, 0300-9434707 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
(علامہ عبد الستار عاصم۔فون:0333/323-4393433 )