ق لیگ کیلئے مسلم لیگ میں غیر مشروط ادغام بہتر ہے

مکرمی! میاں شہباز شریف کی حکومت 24 فروری 2009ء کی پوزیشن پر بحال ہو گئی۔ یہی آزاد عدلیہ کا کمال اور کارنامہ ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد پنجاب میں ایک بہت بڑا سیاسی بحران پیدا ہوا۔ بحران اپنی جگہ لیکن اس کو مسلم لیگ ق بہت اچھے طریقے سے استعمال کر سکتی تھی۔ اپنے لئے‘ پارٹی کے لئے اور قوم و ملک کے لئے … نوائے وقت کے اداریئے گواہ ہیں کہ ق لیگ کو بار بار باور کرایا گیا کہ وہ مسلم لیگ ن سے اتحاد کرنے کیلئے قدم آگے بڑھائے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر بار بار کہہ رہے تھے کہ کوئی بھی دو پارٹیاں اتحاد کر لیں وہ اسمبلی اجلاس بلا کر قائد ایوان منتخب کرنے کا موقع دیں گے۔ حالانکہ مسلم لیگ ن کو کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے بغیر بھی اکثریت حاصل تھی۔ گورنر ق لیگ کے فارورڈ بلاک کے ارکان کو نظر انداز کر رہے تھے یہ وہی ارکان ہیں جن کے عزم اور حوصلے کے باعث گورنر اپنی پارٹی کی حکومت بنوانے میں ناکام رہے۔ ق لیگ کے لئے یہ سنہری موقع تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کرتی اور پنجاب میں مضبوط حکومت کی بنیاد کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی مضبوط اپوزیشن معرض وجود میں آتی اور دونوں مسلم لیگیں مل کر قائد اور اقبال کی مسلم لیگ بن جاتیں۔
گورنر راج سے قبل مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے حوالے سے الگ الگ جلسوں میں میاں نواز شریف اور چودھری شجاعت نے مسلم لیگوں کے اتحاد کی بات کی تھی۔ میاں نواز شریف کی طرح چودھری شجاعت نے بھی جناب مجید نظامی کو ثالث مان کر اتحاد کی پیشرفت کے لئے اچھے شگون کا اظہار کیا۔ مجید نظامی صاحب کی کوششیں جاری تھیں کہ گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ یہی مسلم لیگوں کے اتحاد کا بہترین موقع تھا لیکن چودھری پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے منصوبے بنانے لگے۔ یوں مسلم لیگوں کے اتحاد کا سنہری موقع ضائع کر دیا گیا۔ گورنر اور پرویز الٰہی مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک کو واپس لانے کی جدوجہد کرتے رہے۔ اب بھی موقع ہے… مجید نظامی صاحب پرعزم ہیں۔ مسلم لیگ ن کو ق لیگ کے ووٹوں کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود شریف برادران کے ق لیگ کو ساتھ ملانے کیلئے بازو کھلے ہیں۔ چودھری برادران خصوصی طور پر چودھری پرویز الٰہی کو انا کے خول سے باہر آنا چاہئے اور نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔ پنجاب اسمبلی میں ق لیگ ٹمٹما رہی ہے۔ مرکزی اور سینٹ میں بھی معدوم ہو جائے گی۔ اب ان کے پاس اتحاد کے آپشن بھی محدود ہو رہے ہیں۔ غیر مشروط ادغام ہی ان کے حق میں بہتر ہے۔
(عزیر احمد 03004356909)