اختر مینگل غلط تاثر پیدا نہ کریں

مکرمی ! 12 اپریل 2009ء کو وقت ٹی وی پر پروگرام ’’داؤ پیچ‘‘ دیکھ کر دکھ پہنچا۔ پروگرام کے مہمان بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل اور انٹرویو کرنے والے خاور سعید تھے۔ انٹرویو کے دوران اختر مینگل نے کہا کہ کوئٹہ سٹی اور دیگر بیشتر پختون علاقے محض کوئٹہ میونسپل کمیٹی کی ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان میں شامل کئے گئے تھے حالانکہ یہ درست نہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ کوئٹہ‘ پشین‘ سبی‘ لورالائی‘ ژوب اور نوشکی کے اضلاع پر مشتمل برٹش بلوچستان نے نواب محمد خان جوگیزئی آف ژوب کی سربراہی میں منعقد ہونے والے شاہی جرگہ کی رضامندی سے پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا۔ جب انڈیا دو مملکتوں میں تقسیم ہوا تو پاکستان اور بھارت میں سینکڑوں ریاستیں موجود تھیں جہاں نواب حکمرانی کرتے تھے۔ ان ریاستوں کو ہندو یا مسلم اکثریت کی بنا پر پاکستان یا بھارت میں شامل ہونا تھا‘ حیدر آباد اور جونا گڑھ سمیت بھارت کے اندر واقع تمام ریاستوں کو بھارت میں شامل کر لیا گیا جبکہ بلوچستان کو جہاں نواب کی حکمرانی تھی منطقی طور پر پاکستان میں شامل ہونا تھا بلاشبہ کسی ملک میں شامل ہونے سے انکاری ریاستوں کو شامل کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں فوجی ایکشن کیا گیا‘ تقسیم کے ایجنڈے کے تحت نوابوں کی حکمرانی کے تحت بیسیوں آزاد ریاستیں قائم کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا حتیٰ کہ برطانوی دور حکومت میں بھی نوابوں کی ریاستوں میں برطانوی ریذیڈنٹ مقرر تھے جو نگرانی کا کام سرانجام دیتے تھے۔ اس طرح مسٹر اختر مینگل کو یہ غلط تاثر پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا کہ نوابوں کے تحت بلوچستان کی ریاستوں کو برطانوی راج میں مکمل خود مختاری حاصل تھی۔
(ڈاکٹر محمد یعقوب بھٹی ۔ لاہور)