اکیسویں صدی کا نیا راگ

اکیسویں صدی کا نیا راگ

مکرمی! اِنسان نے ایجادات کا سلسلہ جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔ بعض اوقات حادثتاً ایسے بھی ہوا ہے کہ مقصد کے برعکس یا مقصد کے علاوہ بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو خلافِ توقع بالکل نئے نتائج مرتب کرتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ اِس نئے دور میںایک مغربی دور دراز خطہء ارض میں واقع ہوا ہے جِس نے مشرقی موسیقی اور خاص طور پر برِصغیر پاک و ہِند کی کلاسکی موسیقی میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔کلاسیکی موسیقی کے اساتذہ نے علمِ موسیقی کو بارہ تھاٹوں اور ہر تھاٹ میں مخصوص راگوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ راگ سروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔راگ سات ، چھ یا پانچ سروں سے مانے ہوئے قواعد کی بنیادوں پر سنوارے جاتے ہیں۔ چونکہ پانچ سُر کومل اورتیور ہوتے ہیں اِس لئے سُر وں کی تعدادبارہ ہے۔ مزید ہر راگ گانے کا وقت بھی مخصوص ہے۔ جیسے درباری رات دُوسرے پہر کا راگ ہے اور بھیرویں صبح کا۔مشرقی اور خاص طور پر ہندو پاک کی کلاسیکی موسیقی میں بیسویں صدی تک برپا ہونے والی ترقی کے باوجود ، تین سروں پر مشتمل کوئی تھاٹ یا راگ نہیں مِلتا ۔ اکیسویں صدی کی دُوسری دہائی میں راگ اور ترانے کے سروں اور تانوں کے امتزاج سے اب ایک نیا تھاٹ اور اُسی نام کا ایک نیا راگ بھی معرضِ وجود میں آ چُکا ہے۔ عوام اور خواص میں یکساں مقبولیت کی وجہ سے یہ صدا بہار راگ وقت اور مقام کی پابندیوں پر یکساں اس طرح چھا چُکا ہے کہ عوام سے عوام ، عوام الناس کے درجے پر پہنچ چُکے ہیں۔عوام الناس کا درجہ ذرا تفصیل طلب ہے۔ عربی زبان کے قائدے کے مطابق جو لفظ ال سے شروع ہو وہ لفظ خاص معانی پہن لیتا ہے۔ اب ناس کا تو سبھی کو علم ہے، اس سے پہلے ال لگائیں توعوام کا کیا ہونا چاہیے؟
تھاٹ: پا نا ما راگ: پا نا ما پکڑ: پا ۔ نا ۔ پا پا نا ۔ مانے پا
یاد رہے کہ کومل نا کی تیور شکل نے بھی ہو سکتی ہے۔ اب تو اِسے قانونی سرپرستی بھی حاصل ہو چُکی ہے اور پورے انہماک کے ساتھ ہر کوئی اِس نئے راگ میں اپنی اپنی کمپوزیشنز ترتیب دینے میں مگن ہے۔(ڈاکٹر محمد افضل شاہد )