عدل و انصاف

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
عدل و انصاف

مکرمی!اسلام نے عدل ،انصاف پر بہت زور دیا ہے اگر ہم حضورؐ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو یہ بات نمایاں طور پر سامنے آتی ہے کہ اﷲ کے رسولؐ نے اپنی زندگی عدل و انصاف سے گزاری۔اور آپ کے بعد خلفاء راشدین بھی عدل و انصاف کی ایک مثال خلافت پر گامزن ہے اور ان کے عدل و انصاف کی داستانیں قیامت تک یاد گار رہیں گی۔عدل و انصاف کرنے والوں کو اﷲ دوست رکھتا ہے حکمرانوں کے عدل کی وجہ سے مخلوق نہایت آرام سے اپنی زنگی گزارتی ہے کھانے میں بڑی برکت رہتی ہے۔پیدا وار میں ترقی ہوتی ہے اور ہر چیز ارزاں اور سستی رہتی ہے۔مسلمانوں نے اپنے بابرکت زمانوں میں ترقی کے ہر میدان میں جو مسبقت کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ اقرار کرنا پڑتا ہے۔کہ در حقیقت مسلمان ایک زمانے میں اقوام عالم کے مسلم استاد تھے کیونکہ ان میں عدل و انصاف تھا۔انصاف کے معاملہ میں نیت کا بہت دخل ہے ۔اگر نیت ٹھیک ہوگی انصاف میں برکت ہوگی۔اگر نیت خراب ہے انصاف میں بے برکتی ہوگی اس ضمن میں حضرت عباسؓ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ پوشیدہ طور پر اپنے شہر سے دوسری جگہ گیا اور ایک آدمی کے ساتھ ٹھہرا جس نے گائے پالی ہوئی تھی کہ ایک گائے سے تیس گائیوں کے دودھ کی مقدار سے زیادہ دودھ نکالا۔یہ دیکھ کر بادشاہ نے بڑا تعجب کیا۔اور اس نے اپنے دل میں گائے کو لے لینے کا خیال کیا۔دوسرے روز گائے چرا گاہ میں چرنے گئی اور شام کو گھر واپس آئی تو اس روز کم دود نکلا۔بادشاہ نے پوچھا یہ کیا بات ہے ۔کہ آج دودھ کیوں کم نکلا۔کیا گائے چراگاہ میں چرنے نہیں گئی۔گھر والون نے کہا گائے وہی ہے اور وہی چراگاہ ہے لیکن بادشاہ کی نیت خراب ہوگئی ہے اور اس نے اپنی رعایا پر ظلم کا ارادہ کیا ہے۔اور ہمارا یہ یقین ہے کہ جب بادشاہ رعایا پر ظلم کرتا ہے برکت جاتی رہتی ہے۔باشادہ نے دل میں ارادہ کیا کہ وہ رعایا پر ظلم نیں کریگا۔تیسرے دن شام کو گائے چر کر واپس آئی تو پہلے دن کی طرح زیادہ دودھ نکلا۔بادشاہ کو یقین آیا کہ انصاف میں نیکی کی بڑی برکت ہے۔کیا ہم اس واقعہ کو اپنے حالات پر مثبت کرسکتے ہیں۔ہمارے ہاں جو طرح طرح کی خرابیاں ہیں۔کہین اس کی وجہ بھی نیت کی خرابی تو نہیں ہے۔انصاف اور عدل سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں اور عوام کی تقدیریں بدلتی ہیں۔(رشید احمد،گلستان کالونی،واہ کینٹ)