’’جس کھیت سے دہکان کومیسر نہ ہو روزی‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
   ’’جس کھیت سے دہکان کومیسر نہ ہو روزی‘‘

مکرمی! گزشتہ دنوں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیلئے اسلام آباد جانیوالے کسانوں کے قافلوں پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جس سے متعدد نہتے کسان زخمی ہوئے اور کافی کو گرفتار کرلیا گیا۔احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن کسان چونکہ اس ملک کے باسی نہیں اور نہ ہی حکمرانوں کو کسانوں سے کوئی سروکار ہے۔ اس لیے کسانوں کا اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کرنا بہت بڑا جرم ہے؟ہمارے ملک کا کسان تو پہلے ہی قدرتی آفات اور کسان دشمن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے معاشی طور پر مر چکا ہے۔ اس کو اب پولیس گردی کے ذریعے مارنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ہمارے ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والا یہ کسان ہمیشہ سے نظرانداز کیا گیا۔ یہ وہ واحد طبقہ ہے جسے ہمار ے ملک میں محرومی لاچاری بھوک افلاس اور خودکشیوں کے سوا کچھ نہ ملا؟اگر موجودہ حکومت کا کسانوں کے ساتھ یہی معاندانہ رویہ رہا اور کسانوں کو نظر انداز ہی کیا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم انڈیا کی کالونی بن جائینگے اور انڈیا تو چاہتا ہی یہی ہے لیکن ہمارے حکمران کیا چاہتے ہیں یہ بات قابل غور ہے؟(طیب علوی… شعبہ ابلاغیات گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور)