ہیلپنگ بکس اور ہمارا تعلیمی نظام

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ہیلپنگ بکس اور ہمارا تعلیمی نظام

مکرمی! ہمارے ملک پاکستان میں تعلیمی نظام پر نت نئے تجربات ہو رہے ہیں کبھی انگلش میڈیم سلیبس لگوا دیتے ہیں اور کبھی اردو میڈیم سلیبس لگوا دیتے ہیں ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ اگر انگلش میڈیم سلیبس لگ جائے تو بچے انگلش میڈیم پڑھنے لگ جاتے ہیں اور انگلش میڈیم ہیلپنگ بکس مثلاً خلاصے اور گائیڈیں بچوں کو خریدنے پڑتے ہیں۔ ٹیچر صاحبان کہتے ہیں بچوں کو فلاں کمپنی کا خلاصہ لے لو بچے والدین کو مجبور کرکے خلاصے بازار سے خرید لیتے ہیں اور بعد میں پیریڈ کسی اور ٹیچرز صاحب کو دے دیتے ہیں اور ٹیچر صاحبان کہتے ہیں کون سا خلاصہ خریدا۔ بچے کہتے ہیں سر یہ کمپنی کا خلاصہ خریدا پھر ٹیچر صاحبان کہتے ہیں یہ کمپنی کا خلاصہ خریدو یہ اچھا خلاصہ ہے اس میں بہت تشریح اور بہت سی مثالیں ہیں۔ ہر بچہ والدین کو مجبور کر دیتا ہے کہ میں نے یہ خلاصہ جات لینے ہیں والدین مجبور اور پریشان ہو کر وہ خلاصہ بچے کو خرید کر دیتے ہیں۔ گائیڈ کی قیمت دیکھ لیں آسمان کو چھو رہی ہیں کم از کم آٹھویں کلاس کی گائیڈ جس کا وزن ایک کلو ہو گا نہایت گھٹیا اور ناقص کاغذ اور قیمت 640/-روپے ایسا ہی حال باقی گائیڈوں کا ہے اور ایسا ہی حال باقی گائیڈوں اور خلاصوں کا ہے۔ پڑھاتے ہیں نہیں بس یہ گائیڈیں لے لو ، یہ خلاصہ لے لو،ٹیچرز صاحبان کو پڑھانا آتا ہے خود خلاصوں سے تیاری کرتے ہیں اور بچوں کو مجبور کرتے ہیں۔ (رانا رضا محمود خاں منج بچیکی)