شام کی خانہ جنگی اور ترکی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
شام کی خانہ جنگی اور ترکی

مکرمی! برادر مکرم اسد اللہ غالب نے بحران یمن کے حوالے سے اپنے جذباتی کالم میں یہاں تک لکھ دیا کہ ’’ترکی تین سال کی طویل مداخلت کے بعد ایک انچ بھی شام کی سرزمین فتح نہ کر سکا۔ بس اپنے ایف 16 گروائے اور ٹینکوں کو بھسم کروایا۔ بھلا ایک ملک کو دوسرے ملک میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا ہے۔ (نوائے وقت 8 اپریل 2015ئ)۔ یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ ترکی شام کے ظالم حکمران بشارالاسد کے خلاف کسی طور جنگ میں شریک نہیں، لہٰذا نہ اس کے ایف 16 گرے اور نہ ٹینک بھسم ہوئے۔ اگر ترکی فری سیرین آرمی کی حمایت میں اپنی عسکری قوت کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہوتا تو بشارالاسد کا اقتدار ایران اور روس کی تمام تر امداد و حمایت کے باوجود کب کا رخصت ہو چکا ہوتا۔ ترکان احرار کی شاندار عسکری تاریخ اور فوجی صلاحیتوں سے یورپ اس قدر لرزاں ہے کہ وہ ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کا روادار نہیں۔ ترکی بشارالاسد کی اقلیتی آمریت کے خلاف شامی عوام کا حامی ضرور ہے اور اس نے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں کیمپوں میں پناہ دے رکھی ہے۔ (محسن فارانی، دارالسلام لاہور فون 7232400)