پاکستان کے مسائل اور اس کا حل

پاکستان کے مسائل اور اس کا حل

مکرمی! مسئلہ یہ ہے کہ اسمبلیوں کی مدت بجائے پانچ سال کے چار سال کی جائے۔ پانچ سال کے لئے جیتنے کے بعد ممبران کرام سمجھ جاتے ہیں کہ اب کوئی کام نہیں۔ صرف اور صرف پانچ سال کے لئے کھانا اور پینا ہے اور وہ یہی کرتے ہیں۔ چار سال کی مدت ایک تو نسبتاً جلد ختم ہو جاتی ہے دوسرا ذمہ داری کا شعور رہتا ہے اور الیکشن بھی بروقت ہو جاتے ہیں اور جمہوری طریقہ کار کے چلنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ حیرت ہے کہ ابھی تک عمران خان نے، آصف زرداری نے اور نہ میاں نواز شریف نے چار سال کا نعرہ لگایا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب کھانے پینے اور غریب عوام کو لوٹنے کے چکر میں ہیں۔ ہاں! خورشید شاہ صاحب واحد لیڈر ہیں جنھوں نے کئی بار اسمبلیوں کے لئے چار سال کا نعرہ بلند کیا ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک ایسے ہیں جن کی مدت چار سال ہے۔ مثلاً کوریا کی اسمبلی کی مدت چار سال ہے۔ چاپان چار سال، ترکی چار سال، امریکہ کی مدت چار سال،افغانستان چار سال، جرمنی چار سال، سوئٹزرلینڈ کی مدت چار سال ہے۔ پھر پاکستان کے ممبران کیوں چار سال نہیں کرتے؟ مسئلہ نمبر دو ہے کہ پاکستان جب بنا تھا تو پاکستان کے پاس پانچ فیصد جنگلات تھے تب سے اب تک درخت کٹ کٹ کر 2.3 فیصد رہ گئے ہیں۔ درخت صبح شام کٹتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ پر ایک بھی درخت نہیں لگایا جاتا۔ جس سے جنگلات ہی ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت جنوبی ایشیاءمیں سب سے کم شرح جنگلات پاکستان کی ہے۔ بھارت میں 23.3 فیصد جنگلات ہیں، بنگلہ دیش میں 15 فیصد، نیپال میں 42 فیصد، سری لنکا 32 فیصد، برطانیہ 11 فیصد، کینیڈا 54 فیصد۔ ہاں یہ یاد رکھئے کہ جنگلات کے کئی فائدے ہیں مثلاً بروقت بارش ہونا۔ بہت سے ادویات کے پودوں کا اگنا،جنگلی حیات کا پرورش پانا۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ پاکستان کے رقبے کے اعتبار سے ایک فیصد جنگلات بڑھانے کے لئے 50 کروڑ درخت لگانا پڑتے ہیں۔ ہمارے حکمران زیادہ سے زیادہ درخت 2 یا تین لاکھ درخت لگا کر آرام سے گھر بیٹھ جائیں گے اور اعلان کر دیں گے کہ ہم نے 2 ارب درخت لگائے ہیں۔ ہمیں 25 فیصد جنگلات کی ضرورت ہے اور وہ اس صورت میں پوری ہو سکتی ہے کہ ہر سال 50 کروڑ درخت نہ صرف لگائے جائیں بلکہ ان کی دیکھ بھال بھی کی جائے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان کا محکمہ جنگلات کیوں بنا ہے اور اس کی سالانہ کارکردگی کتنی ہے۔ ایک اور سلگتا ہوا مسئلہ شادیوں کا ہے۔ یہاں ایک صاحب رہتے ہیں ان کی چار نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیاں ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی بچیوں کی شادی کیوں نہیں کرتے تو ان کا جواب بہت افسردہ تھا کہ لوگ آتے ہیں رشتہ پسند کرتے ہیں لیکن رشتہ اس لئے نہیں کرتے کہ ہمارے پاس اپنا مکان نہیں ہے ہم کرایہ کے مکان میں رہ رہے ہیں تو کرائے کا مکان ہمارے واسطے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں شادیوں کے بارے میں ایک لازمی اور سخت قانون ہونا ضروری ہے۔ بعض لوگ یہ نکتہ بھی نکالتے ہیں کہ لڑکی پڑھی لکھی ہے یا نہیں، اعوان ہے یا ملک ہے، گاﺅں کی ہے یا شہر کی، اس کی کوئی جائیداد ہے یا نہیں، اس طرح کے اور بھی بہت سے غیر ضروری سوالات شادیوں میں تاخیر کا باعث بنتے ہیں، اگر لڑکی کسی حالت میں بھی ہو تو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ میرج بورڈ اس کی شادی کا انتظام کرے گا۔ رشتہ ملنے پر لڑکی کو جس قدر بھی رقم کی ضرورت ہو گی حکومت دے گی لیکن شادی بہرحال لازمی قرار دی جائے۔ذرا پاکستان کے منظر نامے پر نظر ڈالیے اس وقت نہ عمران خان کے گھر نہ آصف زرداری کے گھر نہ الطاف حسین کے گھر نہ شیخ رشید کے گھر کوئی گھر والی ہے۔ کیا ایسی زندگی از روئےِ اسلام جائز ہے؟ قارئین محترم اب یہ بتائیں جو لیڈر اپنا گھر نہیں بسا سکتے وہ عوام کا ملک کیسے بسائیں گے۔ ( میاں محمد اکرم ،اٹک 0321-5713840 )