ڈگری جعلی

جعلی رہبر ہیں کارواں جعلی
لیکے پھرتے ہیں ڈگریاں جعلی
ایسے ایوان کا خدا حافظ
انکی پہچان کا خدا حافظ
جس کو قائد ملے ہیں بیگانے
ایسی ملت کو کون پہچانے
اب لٹیروں کے پاس ہیں عہدے
جھوٹے کرتے ہیں قوم سے وعدے
لوٹتے ہیں وہ قوم کی دولت
بیچ دیتے ہیں قوم کی عزت
زر کی خاطر وہ جان دیتے ہیں
دشمنوں کو وہ شان دیتے ہیں
ان کو سمجھائیں کیسے رخشندہ
ان کو پڑھائے کیسے رخشندہ
رخشندہ حبیب جالب