پاکستانی سیاستدانوں کی ذاتی ترجیحات اور دوغلی پالیسیاں

مکرمی! 5جولائی کو پاکستان پیپلز پارٹی نے یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ جلسے جلوس اور ریلیاں نکالیں کیونکہ اس دن جنرل ضیاالحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ 12اکتوبر کو مسلم لیگ (ن) والے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کیونکہ 12اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ مسلم لیگ (ن) والے ضیاالحق کے مارشل لا کو برا نہیں سمجھتے اور پیپلز پارٹی والے جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کو برا نہیں سمجھتے۔ وہ اس لئے کہ مشرف کے مارشل لا نے ان کے حریف نواز شریف کو نقصان اور ان کو فائدہ پہنچایا اور ضیاالحق کے مارشل لا نے مسلم لیگ کو فائدہ پہنچایا۔ اس میں (ق) اور (ن) والے دونوں شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ق) والے دونوں جنرلوں کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس کو دونوں سے فائدہ ہوا۔ یہ ہے ہمارے سیاستدانوں کی جمہوریت پسندی۔ پاکستانی سیاست دانوں کی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش رہی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کو دو ٹکڑے ہوئے۔ تاریخ سے کسی بھی سیاستدان نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔ میری تمام سیاستدانوں سے گذارش ہے کہ اپنی دوغلی پالیسیوں اور ذاتی ترجیحات کو چھوڑ کر پاکستان کے لئے سوچیں۔ (سید وقار حسین شاہ۔ گجرات)