جو کبھی کرتے تھے پالش ........

آج تک آتے رہے جو حکمراں
قوم سے کرتے رہے اٹکیلیاں
ماسوائے چند رہبران کے
لُوٹنے بن بن کے آئے ٹولیاں
آج بیٹھے ہیں وہ محلات میں
جو کبھی کرتے تھے پالش جوتیاں
دال تک تو چھین لی ہے قوم سے
اور خود بکرے کی کھائیں بوٹیاں
پاس اب عوام کے ہے اور کیا
رہ گئیں تن پہ فقط لنگوٹیاں
محافظانِ قوم کے ہوتے ہوئے
روز ہوتی ہیں یہاں ڈکیتیاں
ہم جو بولیں سچ تو وہ بھی غلط
اور خود رکھتے ہیں جعلی ڈگریاں
جاوید احمد عابد شفیعیjavedahmad07@yahoo.com