تعلیمی نظام پر ٹیوشن مافیا کا قبضہ

مکرمی! قریباً پچھلے بیس سال سے حکومت تعلیمی عمل کو بہتر بنانے کے لئے اربوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔ مگر افسوس تعلیمی نظام میں بہتری کی بجائے روز بروز خرابی پیدا ہو رہی ہے۔ حکومت کے تمام تعلیم دوست منصوبے ٹیوشن مافیا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ لیکن میں اس خط کے ذریعے بتانا چاہتا ہوں کہ تعلیی عمل میں صرف طالب علم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ افسوس کہ آج کا طالب علم جب ہاتھ میں سرٹیفکیٹ لے کر جب کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ کے لئے جاتا ہے تو پہلا سوال کیا جاتا ہے کہ تمہارے ابو کیا کام کرتے ہیں؟ اگر اس کا ابو کاروباری ہو، اچھی ملازمت کر رہا ہو یا بیرون ملک گیا ہو تو اسے پروٹوکول کے ساتھ داخل کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر کوئی طالب علم کہے کہ میرے ابو ریڑھی لگاتے ہیں۔ فیکٹری میں کام کرتے ہیں یا فوت ہو گئے ہیں تو چاہے اس کی تعلیمی حالت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو مڈل کے امتحان میں کتنے ہی اچھے نمبر کیوں نہ ہو۔ داخلہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ تمام تعلیمی اداروں کے اندر ایک نکاتی پالیسی ہی جاری ہے جس کا نام ٹیوشن ہے۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی صورت حال میں کیا تعلیمی انقلاب آ سکتا ہے؟ صورت حال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ آج کا طالب علم کا باپ سکول جا کر بات یہیں شروع کرتا ہے کہ بچہ ٹیوشن پڑھے گا اسے داخل کر لیا جائے۔ جو بچے ٹیوشن نہیں پڑھتے وہ سارا سال کلاس میں ایسے ہوتے ہیں جیسے جیل کاٹ رہے ہوں اور ان کے ساتھ انتہائی گھٹیا درجہ کا ناروا سلوک کیا جتا ہے۔ استاد حاضری لگانے کے بعد پہلا سوال بچوں سے یہ کرتا ہے کہ ٹیوشن فیس لائے ہو۔ کیا یہ تعلیمی تبدیلی ہے؟ کلاسز کے انچارج اور ادارے کا ٹائم ٹیبل بھی ٹیوشن کے حوالے سے ترتیب دیا جاتا ہے۔ پریشان ہوں کہ استاد کہ چھ گھنٹے کے سکول اوقات پر ٹیوشن سنٹر کے ایک گھنٹے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس سے بھیانک مذاق اور کیا ہو سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کئی بار سکول ٹیوشن کو غیرقانونی قرار دے چکی ہے۔ لیکن عمل نظر نہیں آتا۔ حکومت نے کتابیں دے دیں۔ سرکاری سکولوں میں ماہانہ فیس ختم کر دی اور اب خادم اعلیٰ جناب شہباز شریف نے میٹرک کی رجسٹریشن فیس اور داخلہ فیس ختم کر دی ہے۔ یہ سب اس لئے کہ طالب علموں پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ ختم کر دیا جائے لیکن کیا خبر آج تعلیمی اداروں میں 500روپے سے 700روپے ماہانہ ٹیوشن فیس کے نام پر وصول کئے جا رہے ہیں۔ آج کا طالب علم ٹیوشن کے ہاتھوں پریشان ہے اور مجبور بھی۔ ذمہ دار کب حرکت میں آئیں گے۔ (سید شفیق الرحمن۔ شیخوپورہ)