اتحاد کی ضرورت

مکرمی! پورا ملک دہشت گردی کا شکار ہے اور ملت کئی ٹکڑوں میں منقسم ہوچکی ہے مل بیٹھ کر حل تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر انتہائی الزامات کا سلسلہ پورے زور شور سے جاری ہے داتا علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کا دربار مرجمع خلائق ہے لاکھوں عقیدت مند اندرون ملک اور بیرون ملک سے حاضری کے لئے آتے ہیں وہاں بے گناہوں کو خون میں نہلانے والے نہ مسلمان نہ ہی انسان ہیں۔ یہ شیطانی جہنمی ٹولہ ہے جوکسی نہ کسی طرح کسی ملک کے ادارے سے منسلک ہوجاتا ہے اور شیطانی عمل کرکے جہنم رسید ہوجاتا ہے۔مقصد مختلف مسالک کے افراد کو لڑا کر ملک کو غیر مستحکم کرنا اور انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ہم آپس میں لڑتے ہیں اور دشمن کو پہچاننے کی طرف دھیان دینے کیلئے تیار نہیں ہیں روزانہ اطلاعات ملتی ہیں کہ اتنے دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ان سے پوچھ گچھ ہوتی ہے آخر آج تک یہ پتہ کیوں نہیں چلا۔ یہ کون لوگ ہیں۔ اگر ملکی ہیں۔ تو ان کے خریدار کون ہیں؟ بے گناہوں کے قتل عام سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ملک توڑنا چاہتے ہیں۔یا اس کا بٹوارہ۔ مزید ملک کا ایٹمی پروگرام ان کے دل کا ناسور بن چکا ہے۔بہرحال یہ ملک دشمن لوگ ہیں۔ بیگانے بھی اور یہاں کے خرید کردہ لوگ بھی۔اب ان حالات میں آپس میں لڑنے کی بجائے ملک کو بچانے کیلئے پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار بن جاناچاہئے۔ ہر مسلک کے علماءکافرض ہے کہ وہ اتحاد کا مظاہرہ کرکے دشمن کو پیغام دیں کہ ہم سب تمہارے منصوبوں کو خاک میں ملانے کے لئے متحد ہیں۔ مساجد سے تمام مسالک کے افراد کی ٹولیاں نکلیں اور دشمنوں کو بتا دیں کہ ہم ایک ہیں الزام تراشی اور لڑتے جھگڑتے رہنے سے ہم کمزورسے کمزور تر ہوتے جائیں گے۔ (نذر جالندھری)