عزتِ نفس یا ڈالر ، کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا!!!!

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی: پہلے ہم حیران ہوتے تھے کہ ایرانی کیسے اتنی بہادری کے ساتھ ساری دنیا کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اور آج ہم اس بات پر حیران ہیں کہ ایرانی اُس وزیر خارجہ کا استقبال اتنے پُر جوش طریقے سے کر سکتے ہیں جو دنیا کو یہ یقین دلا کر واپس لوٹا ہے کہ اب ایران نیو کلیئر بم نہیں بنائے گا!!! بس یہی بات ہم پاکستانیوں کو سمجھ نہیں آتی کہ کوئی بھی کام اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ کرنے والوں نے اُس کام کو کیا سوچ کر انجام دیا یا کیسے انجام دیا وہ کام کرنے کا طریقہ اور سلیقہ اچھا یا برا ہوتا ہے اور ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران اچھے کام ایسے عجیب طریقے سے کرتے ہیں کہ عوام ذہنوں میں سوائے بے عزتی یا سودے بازی کے علاوہ کوئی دوسری سوچ ہی نہیں آتی جیسے ہمارے وزیر داخلہ صاحب کا یہ شرمناک جملہ کے وقت آگیا ہے کہ ہم عزت نفس یا ڈالر میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرلیں!!! اسب یہ بات ہم میں کون نہیں سمجھتا کہ جب کوئی بھی حکومت ، کسی بے بس اور مجبور بیوہ کی طرح ایسے کمزور سوال پوچھنے بیٹھ جائے تو سمجھویہ اپنی عزت نفس کا سودا کر آئی ہے یا پھر اندر ہی اندر یہ سودا کرنے پر راضی ہوگئی ہے ورنہ جن غیرت مندئوں نے کسی بھی قیمت پر اپنی عزت نفس کا سودا نہیں کرنا ہوتا، وہ ایسے کمزور سوال پوچھنے کے بجائے چھاتی ٹھونک کر اعلان کررہے ہوتے ہیں کہ ہمیں ساری دنیا کی طاقتوں سے ٹکرانا پڑگیا ہم ٹکر اجائیں گے لیکن ہم کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر اپنی عزت نفس پر ہلکی سی آنچ نہیں آنے دیں گے اور جس پارٹی نے قوم سے ووٹ ہی یہ کہہ کر لئے ہوں کہ اے طاہر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھ، جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی، وہی پارٹی آج کیسے اور کس حق سے قوم سے ایسے بے شرمی والے سوال پوچھ سکتی ہے؟؟ (ڈاکٹر سعادت علی اسعد۔ لاہور)