نذرانہ عقیدت

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
نذرانہ عقیدت

جوش عمل بلاغرض، حسن سلوک بے ریا
یوں ہوا وقف کار قوم فخر انام ہو گیا
ایک زبان ایک بات، جس پہ لگے ہوئے تھے کان
منہ سے جو کچھ نکل گیا، حکم وہ عام ہو گیا
بہراطاعت آپ ہی جھک گئے دشمنوں کے سر
دارفتن تھا جو مقام دارالسلام ہو گیا
کم نہ تھا خواب قوم کا خواب گراں مرگ سے
چونکے تو چونکے اس طرح سونا حرام ہو گیا
فوق تدبر جناح مان گئے مدبرین
بحث تمام ہو گئی، ختم کلام ہو گیا
جنگ بغیر فتح یاب، خون بغیر سرخ رو
یوں جو کبھی ہوا نہ تھا، یوں ہی وہ کام ہو گیا
(آرزو لکھنوی)