ابھی نہیں تو کبھی نہیں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ابھی نہیں تو کبھی نہیں

مکرمی۔ آئین اور آرمی ایکٹ کے حوالے سے اکیسویں ترمیم کی بالاآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظوری دے ہی دے۔ پاکستانی قوم اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ عسکری قیادت آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پر عزم ہے۔سانحہ پشاور کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جس عزم و استقلال اور تدبر کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے افسوسناک واقعے کے بعد وہ فوری طور پر افغانستان حکومت کو خبردار کرنے کابل پہنچ گئے اور پھر واپس آکر سیاسی قیادت کو دہشت گردوں کیخلاف متحد کرنے میں کوشاں ہو گئے۔ طویل ترین اجلاسوں اور کئی کئی گھنٹوں کے بحث و مباحثے کے بعد بالاآخر نتیجہ اکیسویں ترمیم کی صورت میں نکلا۔ نیم دلانہ طور پر ہی سہی پارلیمنٹ نے آخر کار اکیسویں ترمیم منظور کر لی ہے۔ اور فوجی عدالتوں کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے سیاسی عسکری قیادت دہشت گردوں کے خلاف نئے عزم و حوصلے کے ساتھ میدان میں آگئی ہے۔ دہشت گردوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کے داخلی نظام کو مفلوج کر کے رکھا ہوا ہے۔ اور گذشتہ کئی عشروں سے اسلام کے نام لیواو¿ں نے اسلام کے نام پر قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ آئے روز بم دھماکے اور خود کش حملوں نے پاکستانی قوم کو نفسیاتی مریض بنا کے رکھ دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مذہبی بنیاد پر دہشت گردی کرنے والوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا جائے۔ اکیسویں ترمیم اس جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس ترمیم پر اس کی حروک کے مطابق عمل کیا جاتا ہے یا پھر سابقہ قوانین کی طرح اس کو بھی دستور کا حصہ بنانا مقصود ہے۔ دوسری جانب مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی اور JUI فضل الرحمن جنھوں نے اس کاروائی میں حصہ نہیں لیا ن کے خدشات کو بھی دور کرنا از حد ضروری ہے۔ MQM کے قائد الطاف حسین طالبان اور دہشت گردوں کے حوالے سے ایک ٹھوس موقف رکھتے ہیں اور انہوں نے دہشت گردی چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو کہ ہمیشہ مذمت و مخالفت کی ۔ MQM نے اکیسویں آئینی ترمیم میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا جو کہ قائد تحریک الطاف حسین کی مضبوط قوت ارادوں اور دہشت گردوں کیخلاف انکے ویژن کی بھرپورعکاسی کرتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں اب حکومت ِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر بھرپور ایکشن لیا جائے اور دہشت گردوں جنھوں نے پاکستانی قوم کو گذشتہ چند سالوں سے اذیت سے دوچار کر رکھا ہے ان کو وجود اس پاک دھرتی سے مٹا دیا جائے۔(میر شوکت کاشمیری، نارتھ شارلٹ ، کیرولینا، امریکہ)