پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ’’ڈکیتی‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

مکرمی! گزارش ہے کہ اس درخواست سے پہلے بھی درخواستیں ارسال کر چکا ہوں مگر حسب سابق ان پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ میں نے 28 اگست 2013ء کو درخواست ارسال کی تھی کہ حکومت وقت / وزارت پانی و بجلی / بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیاں یا پھر متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ مگر کرپٹ عہدیدار کوئی نہ کوئی تو ہے جو کرپٹ لوگوں/ بجلی چوروں کو تمام سہولیات بہم پہنچا رہا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ بجلی چوروں کو بجلی چوری کروائی جاتی ہے اور ان کا کھاتہ پر کرنے کیلئے عام شہریوں کو اورربلنگ Over billing کر کے کارروائی پوری کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ بجلی کے صارفین سے 7 دن کا ایڈوانس بل وصول کیا جا رہا ہے یعنی جو ریڈنگ 19-11-2013 کو لی جاتی ہے اس کو 12-11-2013 کا ظاہر کر کے بل وصول کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر میری ایک درخواست پر متعلقہ SDO صاحب نے مہربانی فرمائی اور میٹر ریڈر کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ میرے گھر کے میٹر کی جس دن ریڈنگ لے گا وہ تحریری طور پر میرے علم میں بھی لائی جائے گی۔ انہی ہدایات کو Follow کرتے ہوئے میٹر ریڈر نے 19-11-2013 (اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ریڈنگ کی فوٹو کاپی منسلک ہے) کو جو ریڈنگ دی وہ 61877 ہے۔ جناب عالیٰ اسی ریڈنگ کی تاریخ بل پر 12-11-2013 درج ہے (یعنی 7 دن کی ایڈوانس ریڈنگ) یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ ان سات دنوں کے اضافی چارجز کا فائدہ کن کو پہنچایا جا رہا ہے؟ اس معاملہ کی تہہ تک جانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایک اسلامی ریاست میں مسلمان دوسرے مسلمان کو بے دردی سے لوٹ رہا ہے۔ (صدیق احمد بٹ نیو سپر ٹاؤن لاہور کینٹ)