سپ مرے یا جٹ … (ایم اشرف نوید رائیگا تحصیل پھالیہ )

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر

بزم برق میں اگرچہ ذکر آشیاں کا ہے
نگاہ شرر میں آویزاں نقشہ گلستاں کا ہے
ریگ مال پہ سرخی تو ایک چال ہے اے اسد
تو جو چاٹ رہا ہے خون وہ تیر یزبان کا ہے
طوفان آتے ہیں تو گزر جاتے ہیں پر لازم
چمن ہستی میں تعلق شاخ و آشیاں کا ہے
یکساں ہے آتش عدو کے لئے سانپ ہو کہ جاٹ
مطلوب تشنہ صلیبی کو خوں مسلمان کا ہے
شیراز اتحاد و ملت کا بکھرایوں چالاکی سے
کہ بھیڑئیے کو ہی فکر اب ریوڑ کے آماں کا ہے
بڑھ جاتی ہے تاریکی قریب طلوع سحر اور بھی
سنبھال اے نقیب ضیاء کہ وقت اب دھیاں کا ہے
نویدمنزل سے ہمکنار ہو یہ کشتی اور ساماں بھی
کاردانش میں یہ امتحاں میر کارواں کا ہے