”وزراءکی سیکورٹی“

مکرمی! اسلام آباد پولیس کی نصف تعداد اس وقت سیکورٹی کے نام پر وی وی آئی پی اور کابینہ کے ارکان کی حفاظت پر مامور ہے تمام وزراءکا یہ بھی اصرار ہے کہ انہیں بھی ہائی لیول سیکورٹی فراہم کی جائے اور اسلام آباد کے لوگوں کو جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے 9000 اہلکاروں میں سے 4510 اہلکار وی وی آئی پی اور سی آئی ڈی وغیرہ کے لئے تعینات ہیں اور اس وقت صرف وزیر داخلہ رحمن ملک کی سیکورٹی پر پولیس اور رینجرز کے 75 اہلکار مامور ہیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان بھی اسی طرح کی سیکورٹی کے خواہش مند ہیں۔ عوام جن لوگوں کو پارلیمنٹ یا کسی بھی ایوان کے لئے منتخب کرتے ہیں تو ان سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ لوگ عوام کی خدمت کریں گے اور عوام کی بہتری خوشحالی اور بہبود کے لئے اپنا کردار سرانجام دیں گے مگر بہت سے سیاسی لیڈر جو براہ راست عوام کے منتخب بھی نہیں ہیں سنیٹیر بن کر وہ عوام کے لئے مشکلات با باعث بن جاتے ہیں۔ رحمن ملک جیسے لوگ جو کہ خود ملازمت کرتے رہے ہیں اور سیکورٹی ڈیوٹی بھی دیتے رہے ہیں اگر بہت زیادہ خطرات میں گھر گئے ہیں کہ 75 افراد کی سیکورٹی کی انہیں ضرورت ہے تو مہربانی کر کے حکومت انہیں فارغ کر دے اور کسی سیاستدان کو وزیر داخلہ بنا دیا جائے وہ اپنے گھر خطروں سے محفوظ ہو کر آرام کریں اور عوام کا کروڑوں روپیہ بھی بچائیں جو ان کی خواہ مخواہ کی سکیورٹی پر خرچ ہو رہا ہے اسی طرح بابر اعوان صاحب کو اپنی جان کا خطرہ ہے تو وہ وزارت چھوڑ کر اپنے دفتر جا کر بیٹھیں جو کہ زیادہ محفوظ جگہ ہے۔ سیاستدان عوام کی خدمت کے لئے اقتدار میں آتے ہیں عوام کا خزانہ لوٹنے کے لئے انہیں منتخب نہیں کیا جاتا۔ پولیس عوام کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے کے لئے بھرتی کی جاتی ہے جن وزیروں، ارکان پارلیمنٹ جن کی جان خطرہ میں ہے وہ اپنے ذاتی خرچہ پر اپنی سکیورٹی کا اہتمام کریں۔ اپنی ذاتی سکیورٹی کو حکومت اور عوام کے ذمہ نہ ڈالیں۔( رانا عادل حمید لاہور)