پنجاب کا لٹریسی ڈیپارٹمنٹ

مکرمی! وزیر اعظم پاکستان نے اس سال کو خواندگی کا سال قرار دیا ہے اس عزم کے ساتھ کہ موجود خواندگی کی شرح جو کہ اکنامک سروے کے مطابق 56 سے 57 فیصد ہے اس کو ہم اس سال کے آخر تک 66 فیصد تک لے آئیں گے اور انشاءاللہ ہم معاہد ہ ڈکار2003 ء کے تحت 2015 ء تک اپنی خواندگی کی شرح کو 58 فیصد تک لے جائیں گے آج ملک میں بالغ افراد کی شرح خواندگی 55 فیصد ہے اور اس وقت مُلک میں نیشنل کمیشن فار ہومن ڈویلپمنٹ مُلک میں خواند گی کی شرح کو بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے اب تک 5 سے 7 سال تک سکول نہ جانے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد 8.2 ملین بچوں کو سکول جانے کے لیے رجسٹرڈکیا جا چکا ہے 17500 فیڈرز ٹیچرز گورنمنٹ پرائمر ی سکولز میں فراہم کیے جاچکے ہیں 2.76 بالغ افراد جو خواندہ بنانے کا کریڈٹ بھی نیشنل کمیشن فارہیومن ڈویلپمنٹ لے چکا ہے جن میں 50 فیصد خواتین ہیں یہ ایک حوصلہ افزا ءبات ہے ایک لاکھ 20 ہزار دو سو تریسٹھ سنٹرز اس مُلک میں صرف بالغ افراد کو خواند ہ بنانے کے لیے کھولے گئے ہیں۔ میری اپنی ناقص رائے تو یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم پڑھا لکھا پاکستان بنانے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اِن بچوں کو سکولز کے دروازے تک پہنچائیں کیونکہ کہ وہ کل کے پاکستان کا مستقبل ہیں باقی بالغ افراد کے لیے ایسے لٹریسی سنٹرز کی بجائے کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ اَن لٹریسی سنٹرز کو ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیم کے ادارے ہم بنا دیتے تاکہ جو پڑھے لکھے بے روزگار ہیں وہ یہاں سے ٹریننگ لے کر اپنے لیے روزگار بھی تلاش کرسکیں اور ساتھ ساتھ اس 6 ماہ کی ٹریننگ میں ہی اِن کو اتنا لکھنا پڑھنا آ جائے کہ وہ کم از کم اخبار پڑھنا جان سکتے اور خط لکھنا و حساب کتاب کرنا جان سکتے۔ ( حسنین ملک)