اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے۔ اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

مکرمی! وطن عزیز پاکستان اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے۔ نوائے وقت گروپ نے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے ادارے کی جانب سے عطیہ دے کر متاثرین کے لئے فنڈ قائم کر دیا ہے۔ نوائے وقت اب محض ایک اخبار نہیں رہا بلکہ ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ نظریاتی سکول کی طالبہ کی حیثیت سے میں اس کارخیر کے لئے اپنا حصہ بھیج رہی ہوں۔ یہ قدرتی آفت یقیناً قوم کی اجتماعی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے لیکن اگر تصویر کا مثبت رخ دیکھا جائے تو شاید قدرت نے ہمیں ایک بار پھر یہ موقع دیا ہے کہ ہم خود کو ایک زندہ قوم ثابت کر سکیں۔ حالیہ ماضی میں قوم نے باہمی یکجہتی اور اتحاد کے ذریعہ زلزلہ کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کیا تھا۔ آج پھر اسی جذبے کو دہرانے کی ضرورت ہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ہر محب وطن اور دردمند پاکستانی کو انصارِ مدینہ کی روایات کا امین بن کر میدان عمل میں نکلنا ہو گا۔ صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر ان تمام لوگوں سے بھی اپیل ہے جنہوں نے ملک و قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے شاید قدرت نے انہیں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ صد افسوس کہ ایسے نازک مرحلے پر ہمارے بے شرم اور بے ضمیر حکمران غیر ملکی آقائاوں کے ساتھ بیرون ملک فوٹو سیشن میں مصروف ہیں۔ اپنا اور اپنی اولاد کا سیاسی مستقبل روشن رکھنے کے لئے بے آسرا عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ہے۔ موجودہ سیلاب کی وجوہات میں بھی بھارتی آبی جارحیت کے پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ امن کی آشا کے نام پر بندر کا تماشا لگانے والوں کی آنکھیں اب بھی نہ کھلیں تو کب کھلیں گی؟ (انیسہ فاطمہ قادری نظریاتی سمر سکول)