اعزازی ڈگریاں

مکرمی! ہمارے ملک میں اعزازی ڈگریاں دینے کا ایسا سلسلہ چل نکلا ہے کہ تھمنے میں نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سالہ دورِ حکومت میں اس وقت کے وزیر داخلہ جناب رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ حال ہی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور نے ایسی ہی ڈگری جناب نواز شریف کو عطا کی ہے۔ ایک عام شہری یہ بات سمجھنے سے بالکل قاصر ہے کہ اعزازی ڈگریاں انہی لوگوں کو کیوں دی جاتی ہیں جو حکومتِ وقت کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان حضرات کی وہ کونسی ایسی غیر معمولی کارگزاری تھی جس کے پیش نظر اعزازی ڈگری کا عطا کیا جانا ضروری سمجھا گیا۔ اسی پر موقوف نہیں نہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری کو اپنے لئے محض اعزاز سمجھنے سے زیادہ کئی ڈگری ہولڈر سچ مُچ کے ڈاکٹر بن بیٹھے ہیں حالانکہ ’’دی ایسوسی ایٹڈ پریس سٹائل بُک‘‘ جو ایسے تمام اعزازات سے متعلق قواعد کا مجموعہ ہے کسی بھی آنریری ڈاکٹریٹ کے حامل کو خود ڈاکٹر کہلوا اور لکھنے سے روکتی ہے پھر ایسی کوئی ڈگری عمران خان کو کیوں نہ دی گئی جس نے ملک کے اندر پہلا ’’سٹیٹ آف دی آرٹ کینسر ہسپتال‘‘ بنا کر دُکھی انسانیت کی صحیح معنوں میں خدمت کی ہے۔ بہرکیف یونیورسٹیوں کے ناخدائوں سے یہی درخواست ہے کہ اگر کسی کو اعزاز دینا مقصود ہو تو اس کے نام کے سکالر شپ مستحق طلبہ و طالبات کو دینے کا چلن اختیار کریں جس سے علم کی روشنی مزید پھیلے گی ۔ دوسری صورت میں یونیورسٹی کے کسی بلاک، لائبریری یا آڈیٹوریم وغیرہ کو مطلوبہ معزز شخصیت کے نام موسوم کیا جا سکتا ہے۔ (علی ضیاء ۔ اسلام آباد)