وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس قتل عام کانوٹس لیں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس قتل عام کانوٹس لیں

مکرمی! روزانہ اخبارات میں یہ خبر لازمی شامل ہوتی ہے کہ نوسر بازوں نے نشہ آور مشروب یا بسکٹ وغیرہ کھلا کر لوٹ لیا اور اجنبی شخص زائد نشہ آور دوائی کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔ یہ نوسر باز نہیں قاتل ہیں اور یہ قتل عمد ہے جس پر دفعہ 302 کا مقدمہ درج ہونا چاہئے قاتل مقتول کی جیب خالی کردیتے ہیں۔ جس سے اس کی شناخت ممکن نہیں رہتی اس طرح روزانہ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے معصوم لوگ بے دردی سے قتل ہو رہے ہیں اور پولیس اور حساس ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ پولیس روائتی طور پر ارد گرد کی مساجد سے اعلان کرواتی ہے۔ جبکہ مقتول نہ جانے کراچی سے آیا تھا یا پشاور سے یہ سنگین معاملہ ہے جبکہ اخبارات اور پولیس یہ لکھ کر کہ مقتول حلیے سے بھکاری لگتا ہے۔ اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس کو اس سنگین مسئلہ بلکہ قتل عام کا فوراً نوٹس لینا چاہئے۔(میاں وحید اختر ایڈووکیٹ، 2009 گارڈی ٹرسٹ بلڈنگ نیپئر روڈ لاہور )