ممبران الیکشن کمیشن کی نااہلی؟

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! حال ہی میں دو خالی نشستوں پر بلوچستان اور پنجاب میں دو افراد مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے بلامقابلہ سنیٹرز بن کر ایوان بالا کی زینت بن گئے ہیں۔ کیا یہ سارا عمل الیکشن کمیشن کے ممبران کی تماش بینی اور نااہلیت کے سوا کچھ اور ہے؟ ہرگز نہیں، حضور بات اصول اور ضابطوں کی ہونی چاہئے۔ یہ طرفہ تماشہ جو سینٹ الیکشن میں اکثر ہوتا رہتا ہے، اسکے خاتمے کا آغاز ہونا چاہئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ان دونوں خالی نشستوں پر الیکشن کرانے کا شیڈول اور طریقہ کار انتہائی مختصر، پراسرار اور مافوق الفطرت انداز کا رکھا تھا۔ ایسا کرکے کس کو خوش کیا گیا ہے؟ اگر پنجاب میں اس پارٹی کا سنیٹر بلامقابلہ بن گیا ہے جس کے پاس یہ سیٹ پہلے تھی ہی نہیں تو اسکا مطلب ہے کہ جب مناسب مدت سے پہلے اگر شیڈول آتا، مناسب وقت دیا جاتا کاغذات نامزدگی جمع کروانے کیلئے تو سب پارٹیوں کے غریب اور نظریاتی کارکن کاغذات جمع کروا سکتے تھے بلکہ اپنی قیادت کو اصولوں، نظریات اور غریب کارکنوں کے استحقاق پر ”نظر کرم“ کرنے پر مجبور کرسکتے تھے۔ دولتمندوں، جاگیرداروں، خدمت گاروں کی پہلے کونسی کمی ہے پارلیمنٹ میں؟ ہم ایک تحریر کچھ پہلے پیش کرکے چیف الیکشن کمشنر کی توجہ سینٹ الیکشن میں موجود خرابیوں کی طرف مبذول کروا چکے ہیں مگر محسوس یہ ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ممبران اور چیئرمین میں ذہنی ہم آہنگی موجود ہی نہیں ہے۔ کراچی کے مسئلے پر سندھ کے ممبر کو الگ کرکے اسے خیبر پی کے بھجوایا گیا تھا اور پنجاب کے ممبر کو سندھ کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔ اس افراتفری میں وہ پنجاب کے معاملات پر بھی مطلوب توجہ ہی نہیں دے سکے تھے، شائد اب خیبر پی کے کے ممبر کو پنجاب بھجوایا گیا ہوگا؟ اس انتشار اور افراتفری سے سیاسی نظریاتی اور اصولوں پر کاربند رہنے والے غریب کارکنوں کی شدید حق تلفی ہوگئی ہے لہٰذا اسکو ہم الیکشن کمیشن کے کھاتے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ یہ پابندی بھی ختم ہونی چاہئے کہ امیدوار لازماً خود کاغذات جمع کروائے، اسکا نمائندہ یہ کاغذات کیوں جمع نہیں کروا سکتا؟(محی الدین بن احمد دین)