تعلیم دشمن اقدامات

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! صرف ایک سال میں سرکاری کالجوں میں ہونے والے پروگراموں‘ تقریبات‘ چھٹیوں اور امتحانات کو نکال دیا جائے تو بمشکل دو ماہ بھی پڑھائی نہیں ہوتی۔ اساتذہ اور پرنسپل صاحبان تو ”حکم کے غلام“ ہیں کوئی آپکی ذاتی مل کے ملازمین کی طرح آپکی ”حکم عدولی“ کی جرات نہیں رکھتا۔ کبھی ڈینگی ڈرامہ تو کبھی لیپ ٹاپ سکیم‘ کبھی یوتھ فیسٹیول تو کبھی کوئی پروگرام آج تو حد ہی ہو گئی۔ ڈائریکٹر کالجز کے حکم پر کالج کے پرنسپل نے لڑکوں کو پیپر سمیت کالج بس میں بٹھا دیا کہ الحمرا جانا ہے وہاں خادم شریف اعلیٰ آرہے ہیں، کوئی تقریب ہے۔ یہ کیسا مذاق ہے تعلیم کے ساتھ؟ خدا خدا کرکے ڈینگی ختم ہوا تو اب یہ سلسلے شروع ہو چکے ہیں۔ ان تقریبات میں شرکت کبھی بیکن ہا¶س LGS سٹی سکول یا ایچی سن کالج کے طلبا و طالبات سے بھی کروائیں آپ کو وہاں کی انتظامیہ اور والدین ناکوں چنے چبوائیں گے۔ غریب طلبا کا مزید بیڑہ مت غرق کریں۔ برا لگا تو معذرت مگر سچ یہی ہے جو کڑوا ہے۔(نصرت چودھری 2 سمر فیلڈ روڈ ولور ہیمپٹن یو کے)