اپنے بھائی کا خون کس کے ہاتھ میں تلاش کروں

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! میرا بھائی یاسر عرفات سی اے اے میںپنجگور ایئرپورٹ میں مینجر تھا۔ دوران ڈیوٹی دہشت گردوں نے اس کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ پنجاب کے حکمرانوں کو اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس کے گھر جا کر اس کے خاندان کو تسلی وغیرہ دے دیں۔ جہاں ہمارے حکمرانوں کا مفاد ہوتا ہے وہاں جا کر لوگوں کو تسلیاں دیتے ہیں۔ میں اپنے بھائی کے خون کا حساب کس سے مانگوں؟ بلوچستان حکومت سے یا وفاق سے؟ ہمارا باپ بھی ایمانداری سے منڈی میں کاروبار کیا کرتا تھا۔ راﺅرہائشی شادمان نے ابو سے فراڈ کیا آج تک ہمیں ہمارا حق نہیں ملا۔ وجہ یہ تھی کہ راﺅ کا ایک بھائی فوج میں اعلیٰ آفیسر تھا اور ایک بھائی پولیس میں ڈی آئی جی تھا۔ فراڈ کی وجہ سے چار سال پہلے ہمارے ابوبھی ہم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ہمیں انصاف کون دے گا۔ (رضا محمود انور، 74-C ریلوے آفیسرز کالونی، والٹن۔ 0306-3393993 )