ارفع تجھے سلام

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ارفع تجھے سلام

بانٹا ہے اپنا علم و ہنر اس جہاں کو
ارفع نبھا کے فرض چلی آسمان کو
اک پھول تھی چمن کو معطر یوں کر گئی
دامن وطن کا اپنی وہ خوشیوں سے بھر گئی
معصوم سی کلی تھی وہ شعلہ بیاں بھی تھی
اس کی نظر میں نور تھا شوخی عیاں بھی تھی
بڑھنا ہے تم کو آگے گئی سب کو بول کے
چلتی بنی وہ راہیں نئی سب پہ کھول کے
دل میں ترے تڑپ تھی وطن کی وفائیں تھیں
ہر لب یہ تیرے واسطے ڈھیروں دعائیں تھیں
ٹھنڈک ہے ماں کے دل کی تو والد کا ہے قرار
اک اک تمہاری یاد کا لمحہ ہے یادگار
رفعت پہ آسمان کے لکھوا گئی ہے نام
چھوٹی سی زندگی میں بڑا کر گئی ہے کام
رومی کی خوش نصیبی ہوئی تجھ سے ہم کلام
تو فخر میری قوم کا ارفع تجھے سلام
(ارومہ بٹ رومی)