’’سرکاری محکمے اور چیک اینڈ بیلنس کی صورتحال‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
’’سرکاری محکمے اور چیک اینڈ بیلنس کی صورتحال‘‘

مکرمی ! ایک بین الا قوامی تنظیم کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے سرکاری ادارے اپنی ناقص کارکردگی کے لحاظ سے ترقی پذیر ممالک میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ یہ انکشاف کوئی چونکا دینے والا ہرگز نہیں کیونکہ ہر پاکستانی سرکاری اداروں میں ہونے والی کرپشن ، اقربا پروری ، رشوت ستانی اور بدعنوانی سے بخوبی واقف ہے کیا یہ بات ہماری حکومت بھی جانتی ہے؟ سرکاری اداروں میں جس حد تک بدعنوانی اور کرپشن، رشوت کا راج ہے یہ ایک عام آدمی سے بہتر کوئی اور نہیں جان سکتا۔ رشوت اور سفارش کے بغیر کسی بھی سرکاری محکمے میں اپنا جائز کام بھی نہیں لیا جا سکتا۔ یہ سرکاری محکمے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں حکومت تنخواہوں کی مد میں ہر مہینے اربوں روپے سرکاری ملازمین کو دیتی ہے لیکن کارکردگی پھر بھی زیرو ہے۔ ریلوے، پی آئی اے کا تو کام تمام ہو چکا اگر یہی صورتحال رہی تو باقی ادارے بھی جلد ہی کرپشن اور بدعنوانی کی نظر ہو جائیں گے۔ اگر حکومت نے گورنمنٹ اداروں میں کوئی چیک اینڈ بیلنس کا مربوط نظام نہ بنایا تو جلد ہی پاکستان کے سرکاری ادارے بدعنوانی میں پہلے نمبر پر آ جائیں گے۔ (طیب علوی ۔ ایم اے ماس کمیونی کیشن گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور)