یادِ رفتگان …… ’’علامہ محمد عالم مختار حق ‘‘

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
یادِ رفتگان …… ’’علامہ محمد عالم مختار حق ‘‘

اپنے وقت کے معروف بزرگ الحاج میاں محمد حسین نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کو خداوند تعالیٰ نے کثیر اولاد سے نوازا تھا جن میں سے ان تین بھائیوں نے نام پیدا کیا۔ (1) حکیم حاذق الحاجی میاں محمد اکرم (متوفی 25 نومبر 1990ئ) جو حکمت کے ساتھ فقہ کی باریکیوں سے بھی کما حقہ آگاہ تھے۔ (2) الحاج میاں محمد اعظم منور رقم (متوفی 12 جنوری 1997ئ) جو خطاط مشرق، مؤجدِ طرز جدید منشی عبد المجید پرویں رقم کے صحیح جانشین ثابت ہوئے اور (3) علامہ محمد عالم مختار حق جو 4 مارچ 1931ء کو اس گلزار ہست و بود ہیں تشریف آور ہوئے۔ خاندانی نام محمد عالم رکھا گیا۔ مشہور مورٔخ پیر غلام دستگیر نامی نے آپ کا نام ’’مختار حق‘‘ تجویز فرمایا اور یوں آپ علمی، ادبی و مذہبی حلقوں میں محمد عالم مختار حق کے نام سے مشہور ہوئے۔ میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرنے کے بعد آپ نے ملازمت اختیار کر لی اور ملازمت کے دوران ہی میں ایف اے کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ اپنا سارا وقت تصنیف و تالیف میں گزارنے لگے۔ آپ کی اولین تصنیف ’’نقوش جمیل‘‘ ہے جو آپ نے اپنے والد گرامی کے حالات پر قلمبند کی۔ دیگر تصانیف میں ’’نذر شمس‘‘ گنجینۂ مہر (خطوط مولانا غلام رسول مہر)، مشفق نامے (خطوط مشفق خواجہ)، مجالس علمائ، اردو میں اربعینات، نگار شات ڈاکٹر محمد حمید اللہ (تین جلد)، نادر رسائل میلاد النبیؐ (دو جلد) شامل ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کی 83 بہاریں دیکھنے کے بعد 6 مارچ 2014 کو وصال فرمایا۔8 مارچ بروز اتوار آپ کی پہلی برسی ان کی رہائش گاہ شہاب ٹائون بند روڈ لاہور پر منائی جا رہی ہے۔ (محبوب عالم تھابل شہاب ٹائون بند روڈ لاہور)