ملکی ڈینٹسٹروں سے امتیازی سلوک کیوں؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ملکی ڈینٹسٹروں سے امتیازی سلوک کیوں؟

مکرمی! حکومت پنجاب کو پہلے بھی پریس کانفرنسوں، میڈیا کے ذریعے اور پرامن احتجاج کی صورت میں بار بار یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ تجربہ کار ماہر تعلیم یافتہ ڈینٹسٹوں کا معاشی قتل نہ کیا جائے۔ اگر حکومت گھی والی روٹی نہیں دے سکتی تو کم از کم ہم سے سوکھی روٹی کا نوالہ تو نہ چھینیں۔ پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں بھی ہمیں قانونی اجازت دی گئی ہے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ دیگر کئی ممالک میں تعلیم یافتہ تجربہ کار ڈینٹسٹوں کو ڈینٹسٹری کی قانونی اجازت ہے لیکن حکومت وقت ہمیں مسلسل عطائی بنانے پر بضد دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے بے شمار ڈینٹسٹ ساتھی بیس سے چالیس سال تک کا تجربہ رکھتے ہیں۔ میں خود تیس برس سے زیادہ عرصہ سے یہ کام نہایت دیانتداری سے کرتا چلا آرہا ہوں اور آج تک کسی کو مجھ سے کام کے معاملے میں کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ہمارے کلینک صفائی اور انسٹرومنٹ میں کسی بھی سرجن یا بڑے ڈاکٹر کے کلینک سے کم درجہ کے نہیں ہیں‘ نہ ہم فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے لوگ ہیں جنہیں پکڑ پکڑ کر تھانوں میں بند کردیا جاتا ہے۔ سابقہ ڈی جی ایچ ڈاکٹر زاہد پرویز اور وزیر صحت جناب خواجہ عمران نذیر سے بار بار میٹنگز میں ہماری مہارت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ ہمیں محدود پیمانے پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہئے جس طرح انڈیا، انگلینڈ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر بے شمار ممالک میں ہمارے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے کہ وطن عزیز میں بھی ہماری پیشہ ورانہ مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں محدود پیمانے پر کام کی اجازت دی جائے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت سے اپیل ہے

محمد ادریس صدر (ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن پنجاب۔ 0300-4383809)