پرانے پنشنرز، کمزور عدلیہ/ انصاف کی موت

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پرانے پنشنرز، کمزور عدلیہ/ انصاف کی موت

مکرمی! 1994ء کی پنشن پالیسی کے تحت 2001ء سے قبل ریٹائر ہونے والے مظلوم پنشنرز اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ قانون اور مروجہ پالیسی کے مطابق ایسے پنشنرز تاحیات گراس پنشن پر اضافے کے حقدار ٹھہرے تھے لیکن اس کے برعکس انہیں یہ اضافہ 2001ء تک تو ملتا رہا جو کہ پنشن پالیسی 2001ء کے نفاذ پر ناحق بند کر دیا گیا۔ قانون کی رو سے اس پالیسی 2001ء کا ماضی سے اطلاق ممکن ہی نہیں بلکہ یہ پالیسی آئندہ کیلئے ہی نافذ ہو سکتی ہے۔ بہت سی عدالتوں اور ٹربیونلز نے پنشنرز کے حق میں بے شمار فیصلے دیئے مگر فنانس ڈویژن اسلا آباد اپنے ہی لیٹر مورخہ 02-07-2002 اور ان متعدد عدالتی حکمناموں پر ہٹ دھرمی سے عملدرآمد نہیں کر رہا۔ فاضل سپریم کورٹ کو بارہا تحریری گزارشات اور بے شمار پریس آرٹیکلز کے ذریعے اس عوامی مسئلہ پر توجہ مبذول کرائی گئی مگر جواباً سردمہری اور مکمل خاموشی پر پرانے پنشنرز سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ کیا اب اس بات کا انتظار ہے کہ حالات کا ستایا ہوا کوئی مظلوم و متاثرہ پنشنر انصاف نہ ملنے پر عدالت عظمیٰ کے سامنے جل مرے۔ مؤدبانہ استدعا ہے کہ فاضل سپریم کورٹ سیاسی مقدمات سے باہر نکل کر عوامی مسائل پر بھی توجہ دے اور پرانے پنشنرز کے استحصال اور ان کے حاصل شدہ حقوق کو غصب کئے جانے کا بلاتاخیر اور فوری ازخود نوٹس لے اور ایسے متاثرہ پنشنرز کی پنشن کی درستگی، بحالی اور واجبات کی ادائیگی کے واضح احکامات صادر فرمائے۔

(سی ایم اشرف ایڈووکیٹ لاہور)