بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

مکرمی : ولادت باسعادت سے چند ماہ قبل آپؐ کے والد ماجد حضرت عبداللہ انتقال فرما گئے تھے اس لئے کفالت آپؐ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کی جب آپؐ کی عمر مبارک نویں سال میں داخل ہوئی تو دادا حضرت عبدالمطلب کا بھی انتقال ہو گیا اور اس کے بعد آپؐ کی پرورش آپؐ کے چچا حضرت ابو طالب نے کی۔ حضور اقدسؐ کی پرورش حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر ہوئی اور آپؐ نے اپنے دودھ شریک بھائی کے ساتھ مل کر صحرائوں میں بکریاں بھی چرائیں۔ چونکہ آپؐ نے بچپن میں بھی کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا اس لئے آپؐ کو بچپن سے ہی صادق اور امین سمجھا جاتا تھا۔طلوع آفتاب نبوت کے وقت پوری دنیا پر کفر و ظلمت کے گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ انسانیت خوف و خزن کے عالم میں راگم کردہ ٹھوکریں کھا رہی تھی اسے اپنی منزل کا پتہ تھا نہ راہ حیات کا۔ ہر طرف جہالت، ضلالت، گمراہی اور بداخلاقی کا دور دورہ تھا نسلی و قومی تعصب ، ظالمانہ معاشرتی و مجلسی رسم و رواج اس دور کے اجتماعی مفاسد میں سے تھے۔ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے وہ دور بہت ہی تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا لیکن ان کی تمام تر توانائیاں اصلاح معاشرہ کے لئے ہونے کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے استعمال ہو رہی تھیں، ذات باری تعالیٰ نے انسانیت کی اس قابلِ رحم حالت پر احسان عظیم کرتے ہوئے ان کی اصلاح و تربیت کے لئے ایک ایسے آخری نبی ؐ کومبعوث فرمایا جن کے لئے حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ نے دعا فرمائی تھی اور جن کی تشریف آوری سے ایک عادلانہ معاشرہ قائم ہوا۔ جس کی وجہ سے بت تراش، بت شکن بن گئے اور راہزن، راہبروہادی بن گئے۔ وہ قرآن و دین کے صرف راوی ہی نہیں بلکہ خود دین اور تعلیمات نبویؐ کا زندہ اور چلتا پھرتا نمونہ بن گئے۔ آپؐ کو معجزات بھی عطا ہوئے تھے مگر آپؐ نے معاشرہ میں زندگی مبارک کا بیشتر حصہ گزارا اور لوگوں کو سیرت طیبہ کے عملی نمونہ سے متاثر کر کے اللہ کے دین کا پیغام پہنچایا…(علی عامر، اسلام آباد)