نوجوانانِ پاکستان اور مایوسی !

نوجوانانِ پاکستان اور مایوسی !

کسی بھی قوم کی ترقی میں اس کے نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے ۔دنیا میں وہی قومیں ترقی یافتہ قوموں کی فہرست میں نام بنا سکتی ہیں بلکہ وہی قومیں اپنے وجود گم گشتہ کو حوادث زمانہ کی زد سے نکال کر دنےائے علم و دانش کی وادی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکتی ہیں جن کے نوجوانو ں میں تعین مقصد اور حصول مقصد کی راہ میں جانفشانی اور جانثاری کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح نظر آئے ۔مگر اپنے اطراف میں نوجوانوں کے حالات کا جائزہ لیں تو مایوسی کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔نوجوان ہمارے معاشرے کا حساس ترین حصہ ہیں جو کچھ بھی معاشرے میں ہو رہا ہے نوجوان اس کا اثر لئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔آج کا نوجوان معاشرے میں شناخت کا خواہاں ہے لیکن اسے مایوسی کے اندھیرے میں دھکیل کے اس کی اصل شناخت بھی چھین لی گئی ہے ۔آج کا نوجوان معاشرے میں باوقار اور باعزت مقام حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس پر اعلیٰ ملازمتوں اور روزگار کے دروازے بند ہیں ۔آج کا نوجوان سیاسی امور میں بھرپور شرکت کا خواہشمند ہے لیکن سیاسی مسندوں پر بیٹھے ہوئے ٹولوں نے سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے تمام راستے مسدود کر دئےے ہیں ۔آج کا نوجوان اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے معاشرتی تحفظ ،روزگار ،صحت ، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کی ضمانت چاہتا ہے لیکن اسے یہ ضمانت دینے والا کوئی نہیں ۔یہ تو وہ چند مسائل ہیں جو آج کل کے ہر نوجوان کو درپیش ہیں ۔اس امر میںکوئی شبہ نہیں کہ نوجوانوں کی مایوسی اور احساس محرومی کا ایک اہم سبب ان توقعات کا پورا نہ ہونا ہے جن کی وہ معاشرے سے توقع کرتے ہیں ۔ ہمارے نوجوان عموماً جس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں وہ ہے احساس کمتری ۔ اگر نوجوانوں کی توقعات پوری کر دی جائیں تو نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت مقاصد کے حصول کی راہ پر لگاےا جا سکتا ہے ۔ یہ توقعات اتنی لمبی چوڑی نہیں کہ انہیں پورا کرنے کے لئے عمر خضر یا وسیع سرمایہ درکار ہو بس معمولی منصوبہ بندی کی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے دستےاب وسا ئل اور منصوبہ بندی کو ہم آہنگ کر کے نہ صرف نوجوانوں کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں بلکہ ان کی وہ توقعات بھی با آسانی پوری ہو سکتی ہیں جس کی وہ تمنا اور امید معاشرے سے رکھتے ہیں یعنی حصول تعلیم کے یکساں مواقع ، تعلیم کے بعد با عزت روزگار کی فراہمی ، صحت ، معاشرتی تحفظ اور دےگر بنیادی سہولتوں کی کسی مشکل کے بغیر دستےابی ،یہ تمام امور معاشرے میں نوجوانوں کے مثبت کردار کے سلسلے میں بنےادی اہمیت رکھتے ہیں ۔کاش ہمارے ارباب اختیار و اقتدار دونوں ہی اپنے فرائض اور منصبی کو سمجھ سکیں اور پاکستان کی نوجوان نسل ،جس نے مستقبل قریب میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے اس پر توجہ دے سکیں تاکہ ناجوانان پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکے ۔(حلیمہ عرفان ۔کراچی)