عوام کو معاف کر دو؟

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی!جمہوریت کے کیا تقاضے ہیں؟ ہمارے سیاسی رہنما اگر ان سے بہرہ مند ہوتے تو مسائل اور مصائب کا انبوہ کثیر نہ ہوتا۔ سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کی خطاءکیا ہے؟ یہ وہی عوام تھی جنہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کی جدوجہد کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے اور قائداعظمؒ کی خواہشات اور نظریات کے مطابق جمہوری اصولوں کے مطابق اس معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی جو ہر لحاظ سے صحت مند ہوتا لیکن ہمارے ہاں ان 65 سالوں میں جو بھی اقتدار میں آیا، اس کا یہی ماٹو رہا کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کرسی پر براجمان رہے اور جو اقتدار سے باہر رہا، اس کا نعرہ یہ رہا کہ اقتدار کا اصل حقدار میں ہوں، مجھے اقتدار میں لاﺅ اورموجودہ اہل اقتدار کو باہر نکالو۔ ہر برسراقتدار آنے والی پارٹی کا یہی نظریہ ہوتا ہے کہ اس کا اقتدار پر فائز رہنا ہی قومی خدمت ہے اور یوں قومی خدمت کاجذبہ ہر پارٹی اور سیاسی لیڈر کا منشور بن جاتا ہے۔
کیا عوام کے جذبات سے کھیلنا ہی جمہوریت ہے؟
کیا صحت مند جمہوری روایات کا نفاذ ایک خواب ہے؟
اللہ کرے کہ ان رہنماﺅں کے دل میں آپس کی محاذآرائی، چپقلش اور حصول اقتدار کی خواہش سے ہٹ کر عوام کے مسائل کے حل کیلئے بھی کوئی پہلو نکل آئے ورنہ عوام تو اس مقام پرکھڑے ہیں کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
(فہمیدہ کوثر)