دیہات میں پُرانی دشمنیوں کو ختم کرانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت

ایڈیٹر  |  مراسلات

مکرمی! یوں تو دنیا میں ہر قسم کے جرائم ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں زمین کے ایک ٹکڑے کے تنازعہ پر خوں ریزی کی وارداتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں جو نہ صر ف حکومت کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف ہیں بلکہ آفاقی دین اسلام کے نافذکردہ قوانین کی بھی کھلی خلا ف ورزی ہیں۔ آتشیں اسلحہ کے ذریعہ گولیوں کی ایک ہی بوچھاڑ میں آٹھ دس بارہ لوگوں کو بھون کر رکھ دینے کی خبریں اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اکثر منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ بیسیوں بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ کرنا ان ظالم متحارب گروہوں کاایک کھیل بن چکا ہے چونکہ ایسے واقعات ہیں جو اکثر دیہات میں ہوتے ہیں عدالت میں قاتلوں کے خلاف گواہی دینے کیلئے کوئی شخص اپنی جان خطرہ میں ڈالنا نہیں چاہتا اس لئے معاشرہ میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ سنگدل لوگ بری ہوجاتے ہیں اور خوں ریزی کا یہ کھیل جاری و ساری رہتا ہے۔ اگر حکمران چاہیں تو صرف چھ ما ہ میں اس قبیح فعل پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی قانون سازی کرے کہ دیہات میں پرانی دشمنیوں والے خاندان جو پولیس کے علم اور ریکارڈ میں ہیں کو ایک محدود مدت تک صلح کرلینے اور آئندہ کشت و خون کا کھیل نہ کھیلنے کی تنبیہ کرے۔اگر یہ لوگ باز نہ آئیں تو نہ صرف ان لوگوں کے اسلحہ لائسنس منسوخ کئے جائیں بلکہ انہیں ہمیشہ کیلئے ضلع بدر کردیا جائے اور متنازعہ زمین یا جائیداد بحق سرکار ضبط کرلی جائے۔انشاءاللہ یہ دشمنیاں ختم ہوجائیں گی اور انکی پھیلائی ہوئی دہشت اور بد امنی اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔
(بشیر احمد ملک، کاشانہ نو بہار نمبر87 گلی نمبر 7،محلہ رسول نگر ونڈالہ روڈ شاہدرہ لاہور 0331-4440678)