ترقی و خوشحالی

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
ترقی و خوشحالی

ہمارے ہاں انفرادی سے اجتماعی سطح تک یہی سوچ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ہم ترقی کرنے کے بجائے تنزلی کی طرف جارہے ہیں۔ اخبارات  اور الیکٹرونک میٖڈیا کے تجربوں کا بھی جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ قوم دن بہ دن زوال پذیر ہورہی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہم دنیا کے نقشے پر موجود ہی نہیں رہیں گے۔ لیکن غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ بے پناہ مسائل اور صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بھی قوم تنزلی کی طرف نہیں بلکہ ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بے شک یہ ترقی سست روی کا شکار ہے مگر غنیمت ہے کہ ہم  بھی مشکلات کا سامنا کرسکتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنی شناخت بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جن کے طلبہ ذہین ہیں۔ اور زیادہ تر طلبہ انجینیر اور ڈاکٹر بننے کو ترجع دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ڈاکٹر پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہیں مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے زیادہ تر نوجوان تعلیم کے لئے بیرون ملک جاتے یہں اور پھر وہاں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ یہاں پر مسئلے کا ذمہ دار حکومت کو بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم سب کو بھی ذاتی مفاد کو بلائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ علم موتی جہاں سے ملیں چن لیں گے۔ ایک وقت تھا جب ہم نے خود سے عہد کیاتھا کہ گھاس کھالیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے آج وقت ہے کہ ہم خود سے وعدہ کریں کے گھاس کھائیں گے، مگر بچوں کو تعلیم ضرور دلائیں گے پھر ہم انشاء اللہ ترقی کی وہ منازل طے کرین گے کہ دنیا بھی ہماری ترقی و خوشحالی پر رشک کرے گی۔ (عائشہ بشیر لاہور)