سڑک رکشے اور ہسپتال کے باہر ولادتیں کیوں؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
سڑک رکشے اور ہسپتال کے باہر ولادتیں کیوں؟

مکرمی! حکومت پنجاب صوبے میں صحت کے حوالے سے کئی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ بنیادی صحت مراکز اور زچہ بچہ سنٹرز بھی شہر اور دیہات میں موجود ہیں۔ اس پیشے سے منسلک افراد کی مناسب نگرانی نہ ہونے اور انسانیت کے جذبے سے عاری عملے کے باعث ذرائع ابلاغ میں سڑک‘ رکشے یا ہسپتال کے باہر برآمدے میں زچگی کی خبریں آتی رہتی ہیں، جو افسوسناک ہی نہیں باعث شرم بھی ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ ایسے واقعات کے منظرعام پر آنے کے بعد بھی وقوعہ کے ذمہ دار لاپرواہ‘ بے حس افراد کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا جو ان کو مزید لاپرواہ اور غیر ذمہ دار بنا دیتا ہے۔ سزا نہ دے کر عدالت نے انہیں بگاڑ دیا ہے۔ میری رائے میں ایسے واقعات کی انکوائری کرکے اگر معقول وجہ آور بے چارگی نہ ہو تو ذمہ دار کو پانچ چھِتر اور پانچ ہزار جرمانہ کر دیا جائے تو آئندہ کوئی پیدائش سڑک پر‘ رکشے میں اور ہسپتال کے باہر نہ ہوگی‘ ساتھ ہی زچہ بچہ انتہائی تکلیف اور ذلالت سے بھی بچ جائیں گے جو دونوں (زچہ بچہ) کیلئے جان لیوا بھی ہوسکتی ہے اور یہ ساتھ ہی معاشرے اور ہسپتالوں کا منہ چڑاتے بھی نظر نہیں آئیں گے۔ فرائض منصبی سے غفلت اور لاپرواہی کا قانون اگر موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل کروایا جائے جو متعلقہ ارباب اختیار کی قانونی‘ اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے اور عملدرآمد نہ ہونے پر معاشرے کی بدنامی کا باعث ہے۔

( محمد اسحاق)