پاکستان میں تعلیم بِک رہی ہے؟

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
پاکستان میں تعلیم بِک رہی ہے؟

مکرمی! جب میں ڈان باسکو سکول اور پھر اسلامیہ کالج سول لائنز میں پڑھتا تھا تو تعلیم کا معیار اور خود طالب علموں کی پڑھائی میں دلچسپی انہیں بنیادی طور پر انتہائی پختہ بنا دیتی تھی اور ان کی ہر مضمون میں استعداد قابل تعریف ہوتی۔ اس وقت میٹرک پاس آج کل کے یہ جعلی کالجز، اکیڈمیز انتہائی خوبصورت نام کے بچوں کے سکول جابجا کھلے ہوئے ہیں لیکن پڑھائی ندارد‘ صرف پیسے کمانے کا ذریعے ہیں۔ ایک لڑکے سے جب میں نے پوچھا کہ یہ گلی کے آوارہ لڑکے پڑھے لکھے ہیں؟ اس کے ہاں میں جواب دینے پر میں نے پوچھا کہاں پڑھتے ہیں؟ تو اس نے ایسے ایسے کالجز کے نام بتائے کہ میں حیران ہوگیا۔ فیس دیتے رہو، پاس ہوتے رہو گے۔ پہلے گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ کو سپاہی سیلوٹ کرتا تھا‘ یہاں داخلہ لینا جوئے شیر لانا تھا۔ اسلامیہ کالج سول لائنز‘ ایم اے او کالج‘ دیال سنگھ کالج‘ ایف سی کالج، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج‘ فاطمہ جناح میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ کو لوگ فخر سے دیکھتے تھے۔ اب تو پیسے سے انٹری ٹیسٹ‘ سفارش سے لوگ آتے ہیں۔ یہی حال انجینئرنگ کالج کا ہے۔ ایک وقت تھا U.E.T میں داخلہ لینا فخر تھا‘ اب ہر بچہ انجینئر جعلی پرائیویٹ یونیورسٹی سے بن گیا ہے۔ پھر جعلی اکیڈمیاں‘ جعلی ٹیچر تعلیم کی افادیت کو کھو رہے ہیں۔

طاہر شاہ‘ دھرپورہ (لاہور)