چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دیے

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دیے

یومِ مئی مزدوروں کا عالمی دن ہم یہ دن بڑے ذوق و شوق سے مناتے ہیں پورے ملک میں چھٹی ہوتی ہے جلسے جلوس مزدور کے حق میں تقریریں رات تک ہلہ گلہ اور پھر صبح مزدوروں کے تلخ شب و روز مزدوروں کی عظمت کو کیے گئے تمام سلام ختم ہو جاتے ہیں، تمام بڑے سکولوں میں داخلے کے لئے منسٹر ز کے بچوں کے لئے سیٹس ہوتی ہیں، بزنس مین کے بچوں کے لئے سیٹس ہوتی ہیں، بس ایک مزدور کے لئے کوئی کوٹہ نہیں یعنی مزدور کا بچہ گورنمنٹ کے سکول میں ہی پڑھے پھر چاہے مزدور بنے یا ریڑھی والا، کسی مزدور کا بیٹا اچھے نمبر لیتا ہے وزیر، وزیراعلیٰ وزیراعظم میڈیا پر تصویریں بنواتے ہیں دعوے کیے جاتے ہیں، مثال بنایا جاتا ہے اور بس! ہمیں تقریریں نہیں طریقے بدلنے کی ضرورت ہے، ہمیں مزدوروں کے لئے تقریریں کرنے کی بجائے عزت دینے کی ضرورت ہے، مزدوروں کا حق ادا کرنا ہمارا اولین فرض ہے، ہر اچھے سکول میں مزدوروں کی اولاد کے لئے کوٹہ ہو نا چاہیے ہر اچھی نوکری کے لئے اچھے ریفرنس کی بجائے ایک مزدور کا ریفرنس ہونا چاہئے، ان کی تنخواہیں گورنمنٹ کے سکیل کے برابر ہو نی چاہئے تا کہ جو آسائش ہمیں دے رہے ہیں وہ ان کا بھی نصیب ہیں اور وہ بھی اس ملک کے باعزت شہری بن کر زندگی گزار سکیں۔  ریحانہ سعیدہ۔ برنی روڈ گڑھی شاہو لاہور)