چودھری محمد علی چیئرمین نیلی بار گروپ کی یاد میں

ایڈیٹر  |  ڈاک ایڈیٹر
چودھری محمد علی چیئرمین نیلی بار گروپ کی یاد میں

زمانہ گزرتا جاتا ہے۔ بہاریں آتی ہیں خزاں کی نذر ہو جاتی ہیں۔ آسمانِ زیست پر لاکھوں ستارے جگمگاتے رہے اور جگمگا رہے ہیں۔ جن کی روشنی سے بھولے بھٹکے مسافر اپنی منزل کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ازل سے کارواں میر کارواں کی زیرِ سرپرستی اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں لیکن ایک ایسی بہار جس کی خوشبو، ایک ایسا ستارہ جس کی روشنی، ایک ایسا میرِ کارواں جس کے نقوش، قدم کی جگمگاہٹ اب بھی ایک نئے انقلاب کا سندیسہ دیتی ہے۔ وہ بہار، وہ ستارہ وہ میرِ کارواں چودھری محمد علی چیئرمین نیلی بار گروپ جو آج ہمارے درمیان موجود نہیں۔ لیکن جب بھی ان کی یاد آتی ہے۔ بقول شاعر  …؎
تیرے خیال کے آتے ہی کھل سا اْٹھتا ہوں
تیرا خیال بھی موجِ صبا سا لگتا ہے
ایک طویل عرصہ سے تحصیل بھلوال پیشہ ور سیاستدانوں کے زیرعتاب رہا۔ جن کو عوام کے مسائل و مشکلات سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ تحصیل بھلوال کے عوام مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گِھر چکے تھے۔ ایسے میں حاتم طائی صفت چودھری محمد علی فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے گاؤں 206 گ ب سے اْٹھ کر بھلوال کا باسی بن گیا۔ اِس نے یہاں کے عوام کی حالت دیکھی اور پیشہ ور سیاستدانوں کی خرمستیاں دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے اور نعرہ مستانہ لگا کر سیاست کے سنگلاخ میدان میں کود پڑے۔ دیکھتے دیکھتے عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ وہ جدھر جاتے عوام دیدہ دل فرشِ راہ بچھا دیتے۔ چودھری محمد علی کا ڈیرہ آباد ہو چکا تھا۔ جہاں سے سینکڑوں غریب اور ذہین طلباء کی تعلیم کا بندوبست ہو رہا تھا۔ سینکڑوں حوا کی بیٹیوں کی عصمت محفوظ ہو رہی تھی اور ان کے سروں پر ڈوپٹے رکھے جا رہے تھے۔ ہزاروں غریبوں کے چولہے کی آگ جل اْٹھی تھی۔ جو بھی چودھری محمد علی کے دروازے پر آتا خالی ہاتھ واپس نہ لوٹتا۔ سخاوت غریب پروری کی مثال بن رہی تھی۔ چودھری محمد علی نے ایک غریب خاندان میں جنم لیا۔ اِس لئے وہ غریبوں کے مسائل کو خوب سمجھتے تھے۔ وہ دولت ثروت کو عطائے ایزدی سمجھ کر مشیت ایزدی کے طلبگار رہتے۔ اْن کے حاتم صفتی صرف بھلوال کے عوام تک محدود نہ تھی۔ بلکہ جب بھی ملک پر کوئی کڑا وقت آیا۔ وہ جنگ کا میدان ہو یا سیلاب کا طوفان صحت و تعلیم کا نام ہو یا فلاحِ عامہ کے کام ان کی تجوری مصائب زدہ اور ضرورت مندوں کیلئے ہمیشہ کھلی رہی۔ یونیورسٹی آف سرگودھا کے قیام کے موقع پر سابق گورنر پنجاب جناب جنرل خالد مقبول نے بڑے بڑے جاگیرداروں، زمینداروں، صنعت کاروں اور سیاستدانوں کی موجودگی میں چندے کے لئے بات کی تو صرف چودھری محمد علی وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اپنی جیب خاص سے ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم بطور امداد یونیورسٹی کو دی۔ الغرض وہ کون سا فلاحی کام تھا جس میں چودھری محمد علی نے پیش رو کا کردار ادا نہ کیا ہو۔ ان کی گوناں گوں صفات کا صرف اہل بھلوال ہی نہیں بلکہ ضلع سرگودھا کا ہر باسی بھی اْن کا نام عزت اور احترام سے لیتے ہیں اور اْنہیں محسنِ سرگودھا کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ 6 جولائی 2005ء کو تحصیل بھلوال کے عوام کو چھوڑ کر خالقِ حقیقی کو جا ملے۔ (رانا دلشاد قادری۔ بھلوال)