گورنمنٹ کالج سرگودھا!

مکرمی! ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے اپنے کالموں میں مرحوم گورنمنٹ کالج سرگودھا کا ذکر چھیڑا عالم تخیل میں ایک رنگین کہکشاں روشن ہو گئی خوب صورت عمارتیں، کھیل کے وسیع میدان اور سرسبزو شاداب لان، ان سب پر سرگودھا یونیورسٹی نے قابض ہو کر کالج کا نام و نشان مٹا دیا ”مرحوم“ میں نے اس لے لکھا کہ جب یونیورسٹی قائم ہوئی تو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور (جی سی یونیورسٹی لاہور) اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد ( فیصل آباد) کی طرز پر اس کا نام بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سرگودھا (جی سی یونیورسٹی سرگودھا) رکھا جا سکتا تھا۔ مگر یونیورسٹی کے صاحب بہادروں کو یہ کب گوارا تھا شاید وہ کالج کے نام سے پکارے جانے پر شرم ساری محسوس کرتے تھے۔ میں نے سنا کہ جب یونیورسٹی نے کالج پر قبضہ کیا تو کالج کے اساتذہ نے بار بار کہا کہ اس کا نام جی سی یونیورسٹی سرگودھا رکھا جائے۔ بات بڑی معقول تھی لیکن اس دور بے اماں میں کسی بھی معقول بات پر عمل کرنا تو کجا اس پر کان دھرنا بھی دقیانوسی بلکہ شاید بنیاد پرستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ یونیورسٹی کے ترقی پسند اور روشن خیال ارباب بسنت و کشاد نے حال ہی میں سابق کالج کے مین بلاک کے اوپر انگریزی میں درج Goverment College Sargodha کے الفاظ کھرچ کھر کر مٹا دیئے اور یوں .... کالج کی آخری علامت کو بھی نیست و نابود کر کے ”ترقی“ کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا گویا ایک ثبوت مہیا کر دیا۔ سرگودھا یونیورسٹی کا ایک ماہانہ خبرنامہ نہیں ”نیوز لیٹر“ نکلتا ہے اس میں یونیورسٹی کے موجودہ احوال و کوائف کا ذکر ہوتا ہے۔ کسی معاملے (تدریس یا مطبوعات یا اساتذہ یا کھیلوں کی روایات کے ذکر حالانکہ کالج، یونیورسٹی کا مادری ادارہ تھا میں کہیں مرحوم کالج کا نام نہیں آتا بہرحال یہ ڈارونی نظریہ یونیورسٹی کو مبارک ہو جسے بنی بنائی عمارتیں سجے سجائے لان، سائنسی لیبارٹریاں، ایک بہت قدیم شاندار لائبریری، خوبصورت مسجد، متعدد ہاسٹل ، اساتذہ کی رہائش گاہیں، کنٹین اور مہمان خانے کی عمارتیں ایک بوٹینیکل گارڈن اور کھیلوں کے لئے بہت سے وسیع و عریض میدان مل گئے اور ان سب چیزوں پر قابض ہو کر یونیورسٹی نے مالک (کالج) کو نکال باہر کیا اور اس کا نام بھی لینا ممنوع ٹھہرا۔ ڈاکٹر حسین پراچہ نے گورنمنٹ کالج سرگودھا کے سابق اساتذہ میں صرف جیلانی صاحب اور خورشید صاحب کے ذکر پر اکتفا کیا۔ حقیقت میں پروفیسر مختار، محمود قریشی، مسعود حسین خان اور ان سے بھی پہلے ڈاکٹر عابد احمد علی کا ذکر ہونا چاہیے تھا۔ ڈاکٹر عابد مرحوم کے ذکر سے یاد آیا کہ یونیورسٹی نے ان کی تعمیر کردہ مسجد کے بڑے ہال کو مغرب کی طرف سے بڑھا کر کھلا کر دیا ہے اور اس عمل میں محراب کی مخصوص خوبی (اس کی آواز مسجد سے باہر مین گیٹ تک سنائی دیتی تھی) غارت ہو گئی مجھے جس روز اس کا پتہ چلا میں نے خود جا کر دیکھا کہ یہ احمقانہ تبدیلی کی گئی ہے شدید صدمہ ہوا مگر قہر درویش ہر جان درویش ، درویش چپ رہا۔ بولتا بھی تو کون سنتا ہے مکانِ درویش آپ کچھ کہیں گے (لکھیں گے) تو ممکن ہے کہیں شنوائی ہو۔
(پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی سرگودھا)