چیف جسٹس افتخار چودھری

تم دورِ فاروقی ہمیں پھر یاد دلا دو
انصاف کا ایسا کوئی طوفان اٹھا دو
کر بیٹھے ہیں وابسطہ بہت تم سے اُمیدیں
تم عدل کے پرچم کو ذرا اونچا لگا دو
محروم ہیں انصاف سے ہم ساٹھ برس سے
تم بن کے سپاہی ذرا قائدؒ کا دکھا دو
ہیں ساتھ تمہارے سبھی ماﺅں کی دعائیں
پھانسی پہ ہر اک چور لٹیرے کو چڑھا دو
تقدیر بدل جائے میرے دیس کی جسٹس
پیکر کوئی ایمان کا ”کرسی“ پہ بٹھا دو
میزان عدل میں نہ پڑے جھوک خدارا
اقبال کا شاہین ہمیں بن کے دکھا دو
بن جائے گا یہ دیس محبت کا گلستاں
تم تازہ ہواﺅں کا فقط جھونکا ذرا دو
جاوید احمد عابد شفیعی
javedahmad07@yahoo.com