نوائے وقت کی تاریخ محفوظ کرنے کی ضرورت

مکرمی نوائے وقت کے 70سال23مارچ کومکمل ہورہے ہیں۔اس موقع پر نوائے وقت نے نئے اور پرانے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی شریک کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی خوش آئند ہے ۔نوائے وقت کو میں دو ادوار میں تقسیم کرتا ہوں۔حمید نظامی مرحوم کے دورادارت کا ” نوائے وقت“1940ءسے لیکر 1962ءتک اور مجید نظامی کے دو ادارت کا نوائے وقت 1962ءسے 2010 تک(ندائے ملت کا مختصر عرصہ نکال کر) ان دونوںادوار میں طویل ترین دور جناب مجید نظامی کی ادارت کا بنتا ہے یعنی 48سال۔ میرا احساس یہ ہے نوائے وقت کے حمید نظامی کے دور پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جاناچاہیے بھی لیکن دوسرے 48سالہ دور پر کبھی کوئی کام نہیں کیا گیا۔حالانکہ تحقیقی کام کرنے کے لئے جتنی آسانی مواد جمع کرنے کے حوالے سے کسی بھی بڑے آدمی کی زندگی میں میسر ہوتی ہے وہ وفات کے بعد نہیں۔آج ہر سوال، اعتراض کا جواب جناب مجید نظامی صاحب سے لیا جا سکتا ہے ۔وہ معلومات جو کوئی اور نہیں دے سکتا آپ سے پوچھی جا سکتی ہیں۔مختصراً یہ کہ 1940ءتا 1962ءکی طرح 1962ءتا2010ءکا بھی تفصیل سے جائزہ لیناچاہیے ۔نوائے وقت23مارچ 2010ءکے خصوصی شمارہ کے لئے تو مختصر سے مضامین اور قارئین کی نگارشات ضرور شائع کی جائیں۔لیکن اصل کام نوائے وقت کی مکمل تاریخ محفوظ کرنا ہے۔نوائے وقت کا سال بہ سال انتہائی نامساعد حالات میں جوجاندار کرداررہا ہے جن مالی مشکلات کو نوائے وقت کا سامنا رہا ہے اور محدود اشاعت سے لامحدود کا سفرکیسے مکمل ہوا۔مختلف فوجی آمروں اور ایک سول آمر کے ادوار میں نوائے وقت کے ایڈیٹر کوکن کن حربوں کا مقابلہ کرنا پڑا اور ہوائے تند میں نوائے وقت کے چراغ کو کیسے روشن رکھا گیا ۔
(محمد آصف بھلی سیالکوٹ 0333-8649897)