مظلوم عافیہ صدیقی اور ہمارے حکمران

مکرمی! قوم کی بیٹی کو انسانی جسموں کے تاجر بزدل جنرل پرویز مشرف اور اس کے بے ضمیر ٹولے چند ڈالروں کے عوض عالمی بھیڑیوں کے ہاتھوں فروخت کر کے غدار ملت ہونے کا ثبوت دیا تھا قوم کی عزت مآب بیٹی پر گوری چمڑی والے مگر دل کے کالے امریکی بدمعاش ایسا ظلم کرتے ہیں کہ لکھتے ہوئے دل بھی کانپتا ہے صرف عافیہ صدیقی ہی نہیں اس کے دو پھولوں جیسے بچوں پر بھی بدترین تشدد کیا گیا۔ ایسا سب کچھ محض ہمارے حکمرانوں کی خود غرضی اور لالچ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اور نہ ہی ان کے اندر وہ حمیت ہے جو کسی بھی مسلمان کا اثاثہ ہوتا ہے ڈاکٹر عافیہ کی تکلیف اور دکھ کا معمولی سا اندازہ اس وقت ہوا جب اس نے پاکستانی وفد کو اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کی بپتا سنائی اور کہا کہ نیویارک کی جیل میں 6 نقاب پوش آئے اور میرے ہاتھ پشت پر باندھ دئیے۔ پھر مجھے برہنہ کر کے میری ویڈیو بنائی اور یہ میرے ساتھ ایک بار نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ بگرام ائربیس پر جن لوگوں نے تفتیش کی ان میں ایک بھارتی بھی تھا۔ جب پہلی بار انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو اس کی حالت انتہائی خراب تھی زخم رس رہے تھے۔ اور ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔
وہ عافیہ صدیقی جس کے سر سے لے کر پاﺅں تک جسم کے ہر حصے پر زخموں کے نشانات عالمی درندوں کی درندگی کا چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں۔ اے پیاری بہن تو کیوں روتی ہے‘ تو صدر اور وزیراعظم کی طرف سے امید بھری نظروں سے کیوں دیکھتی ہے۔ تو آصف زرداری کی بیٹی تو نہیں؟ تو یوسف رضا گیلانی کی بہن تو نہیں؟ جو تیری پکار پر اڑانیں بھرتے امریکہ کی طرف جائیں البتہ اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی بہن ضرور ہے۔ اگر حکمران تجھے اپنی بیٹی سمجھتے تو ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتیں ان کو تیری کوئی پروا نہیں۔ ان کو صرف اپنا اقتدار بچانے اور پیٹ بھرنے کی فکر ہے۔ اب حقوق نسواں کی تنظیمیں خاموش کیوں ہیں؟
(عصمت اللہ قلعہ دیدار سنگھ گوجرانوالہ)موبائل 0344-4603255 )